ایران اور امریکا کے درمیان بڑھتی کشیدگی کے دوران پاکستان، سعودی عرب اور ترکی کی اعلیٰ سطح کی سفارتی کوششیں تیز، علاقائی سلامتی اور جنگ بندی کے امکانات پر بات چیت
چیف آف ڈیفنس فورسز اور آرمی چیف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر ایران کے دارالحکومت تہران پہنچ گئے ہیں، جہاں پاکستان، سعودی عرب اور ترکی کے اعلیٰ حکام ایرانی قیادت کے ساتھ مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی فوجی کشیدگی کم کرنے اور ممکنہ نئی جنگ روکنے کیلئے اہم مذاکرات کررہے ہیں۔ یہ پیش رفت ایسے وقت سامنے آئی ہے جب امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی میں اضافہ ہورہا ہے اور اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے بھی ایران کو ممکنہ حملوں کے حوالے سے سخت انتباہ جاری کیا ہے۔
بین الاقوامی خبر رساں اداروں رائٹرز اور ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق پیر 26 اکتوبر کو سعودی عرب، پاکستان اور ترکی کے اعلیٰ سطح کے وفود نے تہران میں ایرانی حکام کے ساتھ رابطے کیے۔
ان مذاکرات میں پاکستان کے فیلڈ مارشل عاصم منیر، سعودی وزیر دفاع شہزادہ خالد بن سلمان اور ترکی کی خفیہ ایجنسی کے سربراہ ابراہیم قالن شریک ہیں۔ رائٹرز کے مطابق یہ ملاقاتیں تینوں ممالک کے درمیان اگست میں طے پانے والے مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کے بعد ایران کے ساتھ پہلی اہم اعلیٰ سطح کی بات چیت ہیں۔
مذاکرات کا مقصد خطے میں کشیدگی کم کرنا، علاقائی سلامتی کے نئے انتظامات پر غور کرنا اور ایران کے ساتھ امریکا اور اسرائیل کی ممکنہ نئی فوجی محاذ آرائی کو روکنے کیلئے سفارتی راستے تلاش کرنا ہے۔





