Roze News

خیبر پختونخوا میں غیر قانونی افغان باشندوں کے خلاف یکم نومبر سے حتمی کریک ڈاؤن کا آغاز کرنے کا فیصلہ

خیبر پختونخوا میں غیر قانونی افغان باشندوں کے خلاف یکم نومبر سے حتمی کریک ڈاؤن کا آغاز کرنے کا فیصلہ

تازہ خبروں اور اہم اپڈیٹس کیلئے ہمارا وٹس ایپ چینل جوائن کریں۔

 خیبر پختونخوا میں حکومت کی تبدیلی اور نئے انتظامی سیٹ اپ کے قیام کے ساتھ ہی غیر قانونی افغان باشندوں کے خلاف ریاست کا گھیرا تنگ کر دیا گیا ہے اور اگلے ماہ کی پہلی تاریخ سے صوبے بھر میں بلاامتیاز بڑے پیمانے پر کریک ڈاؤن کا آغاز ہونے جا رہا ہے۔

 وفاقی حکومت نے واضح احکامات جاری کرتے ہوئے تمام غیر قانونی غیر ملکیوں کو یکم نومبر سے پہلے ملک چھوڑنے کی حتمی مہلت دے دی ہے، جس کے بعد ان کے خلاف سخت قانونی ایکشن، گرفتاری اور فوری ملک بدری کا عمل شروع کیا جائے گا۔

 اس تمام تر صورتِ حال کا سب سے تشویشناک اور سنگین پہلو یہ ہے کہ خیبر پختونخوا میں گزشتہ چند برسوں سے جاری دہشت گردی اور امن و امان کی تباہی کا سارا تانا بانا افغانستان سے ملتا ہے اور صوبے میں تخریب کاری و فتنہ الخوارج کی تمام تر کارروائیاں افغان سرپرستی اور افغان باشندوں کی کھلم کھلا معاونت میں کی جا رہی ہیں۔

خیبر پختونخوا کے نئے سیٹ اپ میں مشیرِ اطلاعات ثمر ہارون بلور نے واضح پالیسی کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ خیبر پختونخوا میں غیر قانونی طور پر مقیم افغان باشندوں کو اب ہر صورت اپنے ملک واپس جانا ہوگا۔

 انہوں نے زور دے کر کہا کہ دنیا کے کسی بھی ملک میں بغیر دستاویزات کے رہنے کی اجازت نہیں ہوتی، اسی لیے صوبے میں غیر قانونی رہائش پذیر افراد کے لیے اب کوئی گنجائش باقی نہیں رہی۔

وہ اپنے وطن واپس جائیں، قانونی ویزا حاصل کریں اور پھر آئیں، لیکن قانون کی دھجیاں اڑاتے ہوئے غیر قانونی قیام کی اب ہرگز اجازت نہیں دی جائے گی۔

دوسری جانب وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے بھی حتمی موقف اپناتے ہوئے کہا ہے کہ واپسی کا عمل جاری ہے اور جو افغان باشندے واپس جائیں گے، انہیں دوبارہ غیر قانونی راستوں سے داخل نہیں ہونے دیا جائے گا کیونکہ افغان باشندے جا کر دوبارہ لوٹ آتے ہیں جس کے باعث اب ان کے خلاف انتہائی سخت ترین یکمشت کارروائی کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

پشاور میں تعینات سینیئر پولیس حکام کے مطابق آپریشن کے لیے تیاریاں مکمل کر لی گئی ہیں اور تھانوں کی سطح پر غیر قانونی مقیم غیر ملکیوں کا تمام ڈیٹا جمع کیا جا چکا ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق خیبر پختونخوا میں اس وقت تقریباً 5 لاکھ غیر قانونی افغان باشندے مقیم ہیں۔

 پولیس حکام نے انکشاف کیا کہ دیگر صوبوں کے مقابلے میں خیبر پختونخوا میں افغان باشندوں کی یہ بہت بڑی تعداد گزشتہ سیاسی دورِ حکومت میں حکومتی سطح پر دکھائی جانے والی مجرمانہ نرمی اور ناقص پالیسیوں کا نتیجہ ہے، جس نے صوبے کے امن کو تباہی کے دہانے پر پہنچایا اور افغانستان پر بیٹھے دہشت گردوں کے نیٹ ورک کو جلا بخشی۔

 اب ہر تھانے کے ایس ایچ او کی سربراہی میں خصوصی ٹیمیں تشکیل دے دی گئی ہیں جو یکم نومبر سے اس گرینڈ کریک ڈاؤن کی نگرانی اور آپریشنل کارروائیاں سرانجام دیں گی۔