حکومت نے گندم کی قلت کے باعث آٹے کی قیمتوں میں اضافے سے پریشان عوام کو اچھی خبر سنا دی۔
وفاقی وزیر رانا تنویر حسین نے نوید سنائی ہے کہ آئندہ چند روز میں گندم کی قیمتیں معمول پر آ جائیں گی۔ انہوں نے مہنگی گندم کی وجہ بتاتے ہوئے کہا کہ گندم کی قیمتوں میں حالیہ اضافہ مصنوعی اور بعض عناصر کی منڈی میں مداخلت کا نتیجہ ہے۔
وفاقی وزیر کے مطابق حکومت نے تمام صوبوں کی مشاورت سے گندم کی قیمت 4500 روپے من مقرر کی ہے وفاقی حکومت نے 40 سال بعد جامع قومی گندم پالیسی تشکیل دے دی، گندم کی قیمت کا تعین تمام صوبائی حکومتوں کی مشاورت اوراتفاقِ رائے سے کیا گیا، گندم کی قیمت 4500 روپے فی من مقررکرنےکا مقصد کسانوں کے مفاد کا تحفظ ہے۔
رانا تنویر حسین کا کہنا تھا کہ رواں سال گندم کے 60 لاکھ میٹرک ٹن تک اسٹریٹجک ذخائر برقرار رکھے جائیں گے ملک میں رواں سال گندم کی کوئی قلت نہیں ہو گی، پاکستان میں گندم کے وافر ذخائر موجود ہیں، عوام کو پریشان ہونے کی ضرورت نہیں، درآمدی گندم کے بجائے اپنے کسانوں سے گندم کی خریداری کو ترجیح دیں گے۔
انہوں نے کہا کہ پاسکو کے ذخائر سے صوبوں کو 13 لاکھ میٹرک ٹن سے زائد گندم فراہم کی جا چکی ہے صوبوں کی طلب کے مطابق ساڑھے 5لاکھ میٹرک ٹن تک گندم درآمد کرنے کے انتظامات کیے جا سکتے ہیں۔





