وہاں بڑا حصہ نو گو ایریا بن چکا ہے، خیبرپختونخوا میں دہشتگردی کا آغاز 9/11 کے بعد ایک ٹیلی فون کال سے ہوا، کے پی میں گورنر راج لگایا گیا تو عوامی ردعمل سامنے آئے گا، وزیراطلاعات کےپی کا ردعمل
وزیر اطلاعات خیبرپختونخوا شفیع جان کا کہنا ہے کہ اگر گورنرراج کیلئے امن وامان کی صورتحال جواز ہے تو پہلے بلوچستان میں گورنرراج لگایا جائے، وہاں بڑا حصہ نو گو ایریا بن چکا ہے، خیبرپختونخوا میں دہشتگردی کا آغاز 9/11 کے بعد ایک ٹیلی فون کال سے ہوا، کے پی میں گورنر راج لگایا گیا تو عوامی ردعمل سامنے آئے گا۔
تفصیلات کے مطابق وزیر اطلاعات خیبرپختونخوا شفیع جان نے معاون خصوصی برائے داخلہ طارق سعید مروت کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ وفاقی وزراء کی ڈیوٹیاں لگائی گئی ہیں، وزراء مسلسل دہشت گردی کو خیبرپختونخوا حکومت سے جوڑ رہے ہیں، انکے وزراء کے پاس ایک ہی رٹا رٹایا اسکرپٹ ہے، اختیار ولی ایک مسترد شدہ شخص ہے،انھوں نے پولیس سے متعلق غلط اعداد و شمار پیش کیے، وفاقی وزراء نے دہشت گردوں کی سہولت کاری کی اور پولیس کو کمزور دکھانے کی کوشش کی، خیبرپختونخوا حکومت کے خلاف منفی بیانیہ بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے، اگر گورنر راج کے لیے امن و امان کی صورتحال جواز ہے تو پہلے بلوچستان میں گورنر راج لگایا جائے، بلوچستان کا بڑا حصہ نو گو ایریا بن چکا ہے، گورنر راج کے لیے وہاں کی صورتحال بھی دیکھی جائے، گورنر راج لگایا گیا تو عوامی ردعمل سامنے آئے گا، خیبرپختونخوا میں دہشت گردی کا آغاز 9/11 کے بعد ایک ٹیلی فون کال سے ہوا۔
انہوں نے کہا کہ عمران خان نے قبائلی اضلاع میں ڈرون حملوں کی مخالفت کی، 2013 میں اقتدار میں آکر ہم نے خیبرپختونخوا کو امن و ترقی کی راہ پر گامزن کیا، عمران خان کے وزیراعظم منتخب ہونے کے بعد ملک میں امن کا دور آیا، عمران خان کو ہٹانے کے بعد ملک کو دوبارہ دہشت گردی کی طرف دھکیلا گیا، عطا تارڑ خیبرپختونخوا آکر یہاں گھومتے ہیں، انہیں بلوچستان کا بھی دورہ کرنا چاہیے، دہشت گردی کے خاتمے اور پالیسی سازی کے لیے ہم سب کے ساتھ بیٹھنے کو تیار ہیں، لیکن وفاقی حکومت کی نیت بھی ٹھیک نہیں ہے اور طبیعیت بھی ناساز ہے، لانگ مارچ کے لئے 27 ستمبر کی تاریخ تبدیل کرنا ہماری سیاسی حکمت عملی تھی، وفاقی حکومت عوام اور اداروں کو آمنے سامنے لانا چاہتی ہے، ڈان لیکس اور سپریم کورٹ پر حملے کے ذمہ دار آج ناجائز طریقے سے اقتدار پر براجمان ہیں، وفاقی حکومت اپنی پوزیشن واضح کرے، پاکستان کے ساتھ کھڑی ہے یا بھارت کے ساتھ؟ ہم پاکستان کے ساتھ کھڑے ہیں، پاکستان ہمارے ایمان کا حصہ ہے۔
پولیس کے لیے 57 جدید آلات کی خریداری کے لیے ہیوی انڈسٹریز ٹیکسلا اور دیگر متعلقہ وفاقی اداروں کو 7.4 ارب روپے ادا کیے گئے، 7.4 ارب روپے کی ادائیگی کے باوجود پولیس کو اب تک صرف 13 آلات فراہم کیے گئے ہیں، پولیس کو آلات کی فراہمی میں تاخیر کے حربے استعمال کیے جا رہے ہیں، پولیس کا بجٹ 191 ارب روپے تک بڑھا دیا گیا، وزیراعلی سہیل آفریدی نے پولیس اور سی ٹی ڈی کے لئے 35 ارب روپے کا پیکج دیا، مریم نواز شریف ملک کی فیڈریشن کے لیے خطرہ بن رہی ہیں، صرف وزیراعلیٰ سہیل آفریدی اور خیبر پختونخوا حکومت کو نشانہ بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے، ہم نے 80 ہزار جانوں کی قربانیاں دی ہیں، پھر بھی طعنے ہمیں دیے جا رہے ہیں، دہشت گردی کے خلاف جنگ میں خیبرپختونخوا کو اس کا جائز حصہ نہیں دیا جا رہا۔
آپ کی حکومت میں ملک دہشت گردی کے انڈیکس میں پہلے نمبر پر آگیا ہے، وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے ایپکس کمیٹی کے اجلاس کے لیے کئی مرتبہ خطوط لکھے، کوئی جواب نہیں آیا، صحت اور تعلیم کے بعد سب سے زیادہ بجٹ پولیس کو دیا گیا ہے، خیبرپختونخوا کے بجٹ میں امن و امان اور پولیس کو نمایاں ترجیح دی گئی ہے۔

Leave feedback about this