جعلی نوٹوں کی روک تھام کیلئے مزید سکیورٹی فیچرز اور جدید میٹریل کا استعمال کیا جائے گا، 10 روپے کے کاغذ کے نوٹ کی جگہ سکہ متعارف کروایا جائے گا
وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیرِ صدارت منعقدہ وفاقی کابینہ کے اہم اجلاس میں وزارتِ خزانہ کی سفارش پر ملک میں نئے کرنسی نوٹوں کے نئے ڈیزائن کی منظوری دے دی گئی، اس کے علاوہ کابینہ نے معاشی اصلاحات کے تحت 10 روپے کے بینک نوٹ کو ختم کرکے اس کی جگہ 10 روپے کا سکہ متعارف کرانے کا بھی فیصلہ کیا ہے۔
تفصیلات کے مطابق وفاقی کابینہ کے اجلاس کے دوران نئے کرنسی نوٹوں کے ڈیزائن پر ایک انتہائی تفصیلی اور جامع بریفنگ پیش کی گئی، کابینہ کو بتایا گیا کہ ان نئے نوٹوں کے دلکش اور جدید ڈیزائن کی تیاری کے لیے ملک بھر کے نامور مصوروں، ماہرینِ فن اور پروفیشنل ڈیزائنرز سے خصوصی تجاویز طلب کی گئی تھیں، اس عمل کو شفاف اور جامع بنانے کے لیے وزیرِ اعظم کی جانب سے ایک خصوصی کابینہ کمیٹی تشکیل دی گئی، جس نے تمام متعلقہ اسٹیک ہولڈرز، ماہرینِ معاشیات اور مالیاتی اداروں کے ساتھ تفصیلی مشاورت کے بعد ان ڈیزائنز کو حتمی شکل دی، ان نئے ڈیزائنز میں ملکی ثقافت، تاریخ اور ترقی کے عکاس خوبصورت محرکات کو شامل کیا گیا ہے۔
اجلاس کو بریفنگ کے دوران یہ اہم نکتہ بھی واضح کیا گیا کہ حالیہ برسوں میں مارکیٹ میں جعلی کرنسی نوٹوں کی گردش ایک بڑا چیلنج بن چکی تھی، جس سے معیشت کو نقصان پہنچ رہا تھا، اس سنگین مسئلے سے نمٹنے کے لیے نئے کرنسی نوٹوں میں انتہائی جدید اور ناقابلِ نقل سکیورٹی فیچرز شامل کیے گئے ہیں، ان جدید سیکیورٹی فیچرز کی موجودگی کی وجہ سے عام آدمی اور بینکوں کے لیے جعلی نوٹ کی شناخت انتہائی آسان ہوجائے گی، نوٹوں کی تیاری میں اعلیٰ معیار کا جدید ترین میٹریل استعمال کیا جائے گا، جس سے ناصرف نوٹوں کی پائیداری میں اضافہ ہوگا بلکہ ان کی استعمال کی مدت بھی طویل ہو جائے گی، جس سے قومی خزانے پر بار بار نوٹ چھپانے کا بوجھ کم ہوگا۔
مزید یہ بھی بتایا گیا ہے کہ وفاقی کابینہ کے اس اجلاس کا ایک اور اہم ترین فیصلہ 10 روپے کے کاغذ کے بینک نوٹ کا خاتمہ اور اس کی جگہ 10 روپے کا سکہ جاری کرنا ہے، کیوں کہ دنیا بھر میں کم مالیت کے کرنسی نوٹوں کے مقابلے میں سکے زیادہ پائیدار اور طویل عرصے تک قابلِ استعمال رہتے ہیں، حکومت کے اس اقدام سے جہاں ایک طرف چھوٹے نوٹوں کی بار بار تبدیلی پر آنے والے بھاری اخراجات کی بچت ہوگی، وہیں مارکیٹ میں ریزرو کی ترسیل بھی زیادہ بہتر طریقے سے ہو سکے گی۔
علاوہ ازیں وفاقی کابینہ نے خیبرپختونخواہ میں صوبے کے انتظامی امور کی انجام دہی اور گورننس کی بہتری کے لیے وزیر اعلیٰ کے تفویض شدہ اختیارات صوبے میں ایمرجنسی کی مدت کے دوران روزمرہ کے امور کی انجام دہی کے لیے گورنر خیبر پختونخواہ کو منتقل کرنے کی منظوری دے دی، گورنر ہر ماہ اس حوالے سے وفاقی حکومت کو جائزہ رپورٹ پیش کریں گے۔
معلوم ہوا ہے کہ کابینہ نے 11 جون 2023ء کو طے پانے والے پاکستان اور کویت کے مابین دفاعی تعاون کے معاہدے کی باضابطہ توثیق کردی، جس کا مقصد دونوں برادر ممالک کے درمیان دفاعی تعلقات کو مزید فروغ دینا ہے، اس کے علاوہ وفاقی کابینہ نے کابینہ کمیٹی برائے حکومتی ملکیتی اداروں اور کابینہ کمیٹی برائے لیجسلیٹیو کیسز کے پچھلے مہینوں میں ہونے والے مختلف اجلاسوں کے فیصلوں کی بھی توثیق کردی۔





