امریکی ریاست مشی گن سے کامیابی حاصل کرنے والے عبدالسید کا ٹرمپ اور جے ڈی وینس کو جواب، انتخابی مہم میں مذہب اور نام کو نشانہ بنانے پر سخت تنقید
امریکی سینیٹ کیلئے منتخب ہونے والے مسلمان سیاستدان عبدالرحمان محمد السید (Abdul El-Sayed) نے انتخابی کامیابی کے بعد صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور نائب صدر جے ڈی وینس کو طنزیہ انداز میں جواب دیتے ہوئے کہا ہے کہ جنوری میں نائب صدر کو ہی ان سے سینیٹر کا حلف لینا ہوگا۔
امریکی ریاست مشی گن سے ڈیموکریٹک پارٹی کے امیدوار عبدالسید نے ری پبلکن امیدوار مائیک راجرز کو شکست دے کر تاریخی کامیابی حاصل کی ہے۔
ایسوسی ایٹڈ پریس کی رپورٹ کے مطابق وہ امریکی سینیٹ کیلئے منتخب ہونے والے پہلے مسلمان ہیں۔بدھ کی صبح ڈیٹرائٹ میں اپنے حامیوں سے خطاب کرتے ہوئے عبدالسید نے نائب صدر جے ڈی وینس کو مخاطب کیا اور کہا کہ یہ ایک دلچسپ اتفاق ہے کہ آئینی ذمہ داری کے تحت جنوری میں انہیں ہی ان سے حلف لینا ہوگا۔
انتخابی کامیابی کے بعد عبدالسید نے اپنی تقریر میں نائب صدر جے ڈی وینس کو مخاطب کرتے ہوئے عربی لفظ حبیبی استعمال کیا، جس کا مطلب عزیز یا پیارے کے قریب ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ ایک دلچسپ ستم ظریفی ہے کہ جنوری میں نائب صدر کی حیثیت سے جے ڈی وینس کو ہی ان سے سینیٹر کا حلف لینا ہوگا۔ ان کے اس جملے پر ہال میں موجود حامیوں نے تالیاں بجائیں اور خوشی کا اظہار کیا۔
عبدالسید نے صدر ٹرمپ کو بھی مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ انہیں ان کا نام لینے میں مشکل پیش آتی رہی ہے، اس لیے جنوری میں حلف برداری کے بعد وہ انہیں صرف سینیٹر کہہ سکتے ہیں۔ امریکی نائب صدر سینیٹ کے صدر بھی ہوتے ہیں اور روایت کے مطابق نئے سینیٹرز کی حلف برداری میں کردار ادا کرتے ہیں۔
عبدالسید نے اپنی کامیابی کے بعد تقریر میں اسلامی الفاظ استعمال کرتے ہوئے حامیوں کو بتایا کہ انتخابی مہم کے دوران جب بھی نتائج کی بات ہوتی تھی تو وہ ان شاء اللہ کہتے تھے۔
انہوں نے کہا کہ اب انتخابی کامیابی کے بعد ان شاء اللہ کو الحمدللہ میں تبدیل کرنے کا وقت آگیا ہے۔ ان کے اس جملے پر حاضرین نے بھی الحمدللہ کہا اور ہال تالیوں سے گونج اٹھا۔ عبدالسید نے اپنی مکمل شناخت عبدالرحمان محمد السید کے طور پر متعارف کراتے ہوئے مشی گن کے عوام کا شکریہ ادا کیا۔





