Roze News

ہیلتھ کمپلینٹ مینجمنٹ سسٹم1166: 26 کروڑ عوام تک رسائی کے دعوے پر سوالات اٹھنے لگے

1166 ہیلتھ کمپلینٹ مینجمنٹ سسٹم:

تازہ خبروں اور اہم اپڈیٹس کیلئے ہمارا وٹس ایپ چینل جوائن کریں۔

اسلام آباد: وفاقی وزیرِ صحت کی جانب سے 1166 ہیلتھ کمپلینٹ مینجمنٹ سسٹم کو 26 کروڑ عوام کے لیے ایک تاریخی اور انقلابی اقدام قرار دیے جانے کے باوجود اس منصوبے کی عملی افادیت اور ملک بھر میں رسائی کے حوالے سے اہم سوالات سامنے آنے لگے ہیں۔ بالخصوص 18ویں آئینی ترمیم کے بعد صحت کے شعبے میں صوبائی خودمختاری کے تناظر میں اس نظام کے دائرہ کار، انتظامی اختیارات اور عملی نفاذ پر بحث شروع ہو گئی ہے۔

18ویں آئینی ترمیم کے بعد صحت کا شعبہ بڑی حد تک صوبائی ذمہ داری بن چکا ہے، جس کے تحت پنجاب، سندھ، خیبر پختونخوا اور بلوچستان سمیت آزاد جموں و کشمیر اور گلگت بلتستان میں صحت کے الگ انتظامی ڈھانچے، متعلقہ محکمے اور قانونی نظام موجود ہیں۔ ایسے میں یہ سوال اہمیت اختیار کر گیا ہے کہ وفاقی دارالحکومت سے چلنے والا 1166 کا مرکزی ڈیجیٹل نظام کس حد تک صوبائی محکمہ ہائے صحت، ضلعی ہسپتالوں، بنیادی مراکزِ صحت اور دور دراز علاقوں کے طبی مراکز کے ساتھ مؤثر رابطہ قائم کر سکے گا۔

ماہرین کے مطابق کسی بھی قومی سطح کے شکایتی نظام کی کامیابی کے لیے صرف ڈیجیٹل پلیٹ فارم یا ہیلپ لائن کا قیام کافی نہیں، بلکہ شکایات کے اندراج، متعلقہ اداروں تک فوری ترسیل، بروقت ازالے اور کارروائی کی نگرانی کے لیے صوبائی حکومتوں کا عملی تعاون بھی ضروری ہے۔ اگر صوبائی محکمہ ہائے صحت اس نظام کے ساتھ مربوط انداز میں کام نہ کریں تو عوامی شکایات کے اندراج اور ان کے عملی حل کے درمیان خلا برقرار رہنے کا خدشہ موجود رہے گا۔

اس حوالے سے یہ پہلو بھی قابلِ غور ہے کہ صوبائی حکومتیں اپنے صحت کے انتظامی ڈھانچے اور پالیسی معاملات میں خودمختاری رکھتی ہیں، لہٰذا وفاقی سطح پر قائم کسی بھی مرکزی نظام کی مؤثریت کے لیے باہمی مشاورت، اختیارات کی واضح تقسیم اور ادارہ جاتی اشتراک ناگزیر ہوگا۔ ماضی کے بعض مرکزی نوعیت کے منصوبوں کو بھی صوبائی سطح پر رابطوں اور انتظامی ہم آہنگی کے مسائل کا سامنا رہا ہے۔

ضرورت اس امر کی ہے کہ 1166 ہیلتھ کمپلینٹ مینجمنٹ سسٹم کو قومی سطح پر مؤثر بنانے کے لیے چاروں صوبوں، آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کے متعلقہ اداروں کو باضابطہ طور پر اس نظام سے منسلک کیا جائے، صوبائی سطح پر فوکل پرسنز مقرر کیے جائیں اور شکایات کے ازالے کے لیے واضح طریقہ کار وضع کیا جائے۔

بصورتِ دیگر 26 کروڑ عوام تک رسائی کا ہدف عملی طور پر حاصل کرنا ایک بڑا انتظامی چیلنج بن سکتا ہے۔ اس منصوبے کی حقیقی کامیابی کا تعین اس بات سے ہوگا کہ آیا ملک کے دور افتادہ علاقوں میں بیٹھا شہری بھی اپنی طبی شکایت درج کرانے کے بعد اس کا بروقت اور مؤثر حل حاصل کر سکے گا یا یہ سہولت صرف مرکزی سطح کے اعدادوشمار اور اعلانات تک محدود رہے گی۔