مولانا فضل الرحمان نے لیبیا سے کسی فراڈ کے نام پر پیسے لیے، فنڈنگ کے ذرائع، حجم اور استعمال سے متعلق ریکارڈ وضاحت طلب ہے، پیسہ لیبیا کا لگا ملکیت مولانا فضل الرحمان کے نام پر ہے؛ صوبائی مشیراطلاعات کا بیان
خیبر پختونخواہ کے گورنر کی مشیر برائے اطلاعات ثمر ہارون بلور نے مولانا فضل الرحمان کی جماعت جمعیت علماء اسلام ف کے مرکز مفتی محمود سینٹر کی تعمیر، زمین کی خریداری، مالی معاملات اور مبینہ تجاوزات کے حوالے سے سنگین نوعیت کے تحفظات کا اظہار کیا ہے۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری کردہ اپنے ایک بیان میں ثمر ہارون بلور کا کہنا ہے کہ حال ہی میں سامنے آنے والے نئے دستاویزات سے مفتی محمود سینٹر کی زمین کے حصول، مالیاتی انتظامات اور جائیداد سے جڑی مبینہ تجاوزات کے تمام راز کھل کر سامنے آ گئے ہیں۔
انہوں نے الزام عائد کیا کہ مولانا فضل الرحمان نے اس سینٹر کی تعمیر کے لیے مبینہ طور پر لیبیا سے ایک جعلی اور فریب پر مبنی ذریعے کے تحت فنڈز حاصل کیے تھے، اس منصوبے کے لیے اگرچہ لیبیا کے فنڈز استعمال کیے گئے، تاہم حیرت انگیز طور پر اس جائیداد کی ملکیت ذاتی طور پر مولانا فضل الرحمان کے نام پر درج دکھائی دیتی ہے، دستیاب ریکارڈ اور دستاویزات کے مطابق اس جائیداد کے لیے تقریباً 79 کنال اراضی سال 2003ء میں خریدی گئی تھی۔
پراجیکٹ کی تعمیر اور حدود کے حوالے سے بات کرتے ہوئے ثمر ہارون بلور نے کہا کہ سینٹر کے گرد بیرونی احاطے کے لیے ہلکے دھاتی فریم پر مشتمل ایک باڑ یا دیوار بنائی گئی ہے، مفتی محمود سینٹر کی یہ عمارت اور ڈھانچہ پشاور رنگ روڈ کے ساتھ موجود 52 فٹ کے سیٹ بیک ایریا میں تجاوز کرکے بنایا گیا ہے جو کہ براہِ راست حکومت کے طے شدہ رائٹ آف وے کی حدود میں آتا ہے۔
ان کا یہ بھی دعویٰ ہے کہ یہ تعمیرات سرکاری اراضی پر واضح تجاوزات کے زمرے میں آتی ہیں، جس کی وجہ سے پبلک گزرگاہ اور عام راستے کی مقررہ حدود شدید متاثر ہوئی ہیں، ان تمام انکشافات کے بعد مفتی محمود سینٹر کی زمین کی ملکیت، بیرونی ملک سے حاصل ہونے والے فنڈز کے ذرائع اور تعمیراتی ضوابط کی کھلی خلاف ورزیوں کے معاملات اب شدید قانونی اور انتظامی جانچ پڑتال کے دائرے میں آ چکے ہیں۔





