ٹک ٹاکر کو وہیل چیئر پر اسلام آباد ہائیکورٹ لایا گیا، 1 بجکر 40 منٹ پر چیف جسٹس کے چیمبر لے جایا گیا، 5 منٹ بعد 1 بجکر 45 منٹ پر مسٹر پتلو کی حفاظتی ضمانت 10 نومبر تک منظور کرلی گئی؛ فیصل عباس کھر کی خبر
سیالکوٹ میں مہندی کی تقریب کے دوران مچنے والی بھگدڑ کے معاملے میں اہم قانونی پیشرفت سامنے آئی ہے اسلام آباد ہائیکورٹ نے ٹک ٹاکر مسٹر پتلو کی حفاظتی ضمانت 10 نومبر تک منظور کرتے ہوئے متعلقہ پولیس کو انہیں گرفتار کرنے سے روک دیا۔
میڈیا رپورٹس کیمطابق یہ عدالتی پیشرفت انتہائی غیر معمولی حالات میں دیکھنے میں آئی جہاں ٹک ٹاکر مسٹر پتلو کو شدید جسمانی معذوری یا چوٹ کے باعث وہیل چیئر پر اسلام آباد ہائی کورٹ لایا گیا، دوپہر 1 بج کر 40 منٹ پر مسٹر پتلو کو اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس سرفراز ڈوگر کے چیمبر میں پیش کیا گیا۔
انہوں نے بتایا کہ چیف جسٹس سرفراز ڈوگر کے چیمبر میں محض 5 منٹ کی مختصر سماعت کے بعد دوپہر 1 بج کر 45 منٹ پر اسلام آباد ہائی کورٹ نے مسٹر پتلو کی حفاظتی ضمانت منظور کرنے کا باقاعدہ آرڈر جاری کر دیا، ضمانت کا حکم نامہ جاری ہوتے ہی مسٹر پتلو وہیل چیئر پر چیمبر سے باہر آ گئے۔
بتایا گیا ہے کہ عدالت عالیہ کی جانب سے 10 نومبر تک حفاظتی ضمانت منظور کیے جانے کے بعد اب پولیس یا دیگر قانون نافذ کرنے والے ادارے مسٹر پتلو کو اس تاریخ تک گرفتار نہیں کر سکیں گے، جس سے انہیں متعلقہ سیشن یا ٹرائل کورٹ میں پیش ہو کر قبل از گرفتاری ضمانت یا قانونی چارہ جوئی کا موقع مل گیا۔
یاد رہے کہ گزشتہ دنوں سیالکوٹ میں مسٹر پتلو کی مہندی کی تقریب اور محفلِ سماع کے موقع پر انعامات کی قرعہ اندازی کے اعلانات کے باعث ہزاروں کی تعداد میں لوگ جمع ہو گئے تھے، جہاں شدید بد نظمی کے بعد بھگدڑ مچ گئی، جس کے نتیجے میں 2 افراد جاں بحق اور متعدد زخمی ہوئے، اس حادثے کے بعد پولیس نے واقعے کا مقدمہ درج کرکے متعدد افراد کو گرفتار کرلیا جبکہ مرکزی کردار مسٹر پتلو کے خلاف بھی قانونی کارروائی کا آغاز کردیا گیا تھا۔





