لوگ سڑکوں پر نکل آئیں گے، حکومت برقرار نہیں رہ سکے گی، مجھے عہدے سے ہٹایا گیا یا نااہل کردیا گیا تو متبادل کا نام عمران خان خود طے کریں گے۔ وزیراعلیٰ خیبرپختونخواہ کی صحافیوں سے گفتگو
وزیراعلیٰ خیبرپختونخواہ سہیل آفریدی کا کہنا ہے کہ میں نااہلی کی صورت میں مزید خطرناک ہو جاؤں گا، لوگ سڑکوں پر نکل آئیں گے، حکومت برقرار نہیں رہ سکے گی، مجھے عہدے سے ہٹایا گیا یا نااہل کردیا گیا تو متبادل کا نام عمران خان خود طے کریں گے۔ پشاور میں ایوان وزیراعلیٰ میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ لانگ مارچ کی مکمل تیاری ہے، لانگ مارچ کیلئے بڑی تعداد میں گاڑیوں اور موٹرسائیکلوں کا انتظام کر لیا گیا ہے، اگر کسی قسم کی مہم جوئی ہوئی تو 24 گھنٹوں کی کال پر عوام سڑکوں پر نکل آئیں گے۔
وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے اپنی ممکنہ نااہلی کے حوالے بتایا کہ میں نااہلی کی صورت میں مزید خطرناک ہو جاؤں گا، لوگ سڑکوں پر نکل آئیں گے، حکومت برقرار نہیں رہ سکے گی، مجھے عہدے سے ہٹایا گیا یا نااہل کردیا گیا تو متبادل کا نام عمران خان خود طے کریں گے۔
وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے وفاقی حکومت کو مذاکرات کے لیے 7 دن کی حتمی مہلت دیتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ 4 اکتوبر کو اسلام آباد کی طرف لانگ مارچ کا فیصلہ اٹل ہے اور اگر اس دوران حکومت نے کسی ایڈونچر کی کوشش کی تو ورکرز 24 گھنٹے کے اندر باہر نکلنے کے لیے مکمل تیار ہیں۔
پشاور میں سینئر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ 27 ستمبر کا مارچ حکمتِ عملی کے تحت ملتوی کیا گیا، تاہم 4 اکتوبر کو واپسی صرف حقیقی آزادی کے حصول پر ہی ہوگی، اگر وفاقی حکومت افہام و تفہیم اور مذاکرات کے ذریعے مسئلہ حل کرنا چاہتی ہے تو 7 دن میں کرلے کیونکہ ہماری اور اسٹیبلشمنٹ کی لڑائی سے تیسری قوتیں اور سیاسی مہرے فائدہ اٹھا رہے ہیں۔
سہیل آفریدی کہتے ہیں کہ ہم مسلح جتھہ نہیں بلکہ سیاسی لوگ ہیں، مگر وفاقی وزیرِ اطلاعات مجھے کالعدم جماعت ٹی ٹی پی کا کمانڈر اور بی ٹیم قرار دے کر نفرت پھیلا رہے ہیں، اگر وفاق نے خیبر پختونخواہ میں گورنر راج یا ان کی نااہلی کا کوئی غیر آئینی ڈرامہ رچایا تو ایسا عوامی ری ایکشن آئے گا جسے حکومت افورڈ نہیں کر سکے گی، کرسی میرے مقصد کے سامنے آئی تو لات مار دوں گا، میں بہادر شاہ ظفر نہیں بلکہ ٹیپو سلطان بن کر مقابلہ کروں گا اور نااہلی کی صورت میں اپنے لیڈر عمران خان کے حکم پر مزید خطرناک ثابت ہوں گا۔
انہوں نے اپنے دورِ حکومت کی معاشی اور ترقیاتی کارکردگی کا دفاع کرتے ہوئے بتایا کہ خیبر پختونخواہ کی آمدنی 64 ارب سے بڑھا کر 150 ارب روپے تک پہنچا دی ہے جسے جلد 200 ارب تک لے جائیں گے، جبکہ پشاور اور ملاکنڈ میں ایک ایک ہزار بستروں کے جدید ہسپتال تعمیر کیے جا رہے ہیں، لیکن افغانستان کے ساتھ بلاوجہ کشیدگی اور سرحدوں کی بندش سے صوبے کو سالانہ اربوں روپے کا معاشی نقصان ہو رہا ہے، افغان حکومت کے ساتھ قومی جرگے کے ذریعے مذاکرات کیے جائیں۔

Leave feedback about this