روس ایران کو S400ائیرڈیفنس سسٹم دے گا۔ روس کا ایس 400 ایران کو فراہم کرنے کامعاہد ہ ہو چکا ہے۔
ٹیلی گراف کی رپورٹ میں انکشاف کیا گیاہے کہ ایس 400 کےلئے معاہد ہ تقریبا طے پاچکا ہے۔ب ٹیلی گراف کے نامہ نگار نے روسی صدر پوتن اور ایرانی حکام کے روس کے حالیہ دوروں کا حوالہ دیتے ہوئے کہاہے کہ ایس چار سو ٓئیر ڈیفینس بیٹریز کی ایران کو فروخت کے ساتھ ان دوروں میں نئی گیس پائپ لائن پر بھی بات چیت ہوئی ہے۔اخبار نے ایران کیلئے روسی میزائلوں کی تیاری کا بھی انکشاف کیاہے۔یہ میزائل ہیلی کاپٹرسے بھی فائر ہوسکتے ہیں۔
اسرائیل 28 فروری کو شدید ہوائی حملوں کے آغاز سے بہت پہلے ہی اکتوبر 2024 اور اس کے بعد جون 2025 میں کر چکا تھا۔ اسرائیل ایران جنگ کے ابتدائی دنوں میں ایران کی جانب سے ائیر ڈیفینس سرگرمی نہ ہونے کے باعث اسرائیل اور امریکہ کے طیاروں کو سارے ایران میں ائیر سٹرائیکس کے دوران کسی مزاحمت کا خوف نہیں تھا۔
اسرائیل اور ایران کے درمیان پہلی مرتبہ براہِ راست جنگ جون 2025ء میں ہوئی تھی، جسے “12 روزہ جنگ” (Twelve-Day War) کہا جاتا ہے۔ یہ جنگ 13 جون سے 24 جون 2025ء تک جاری رہی، جس کا خاتمہ ایک جنگ بندی کے معاہدے کے تحت ہوا تھا۔ اس جنگ کے دوران ابتدا ہی میں اسرائیلی ائیر فورس نے ایرانی ائیر ڈیفینس کو مکمل زمین بوس کر دیا تھا اور ایرانی ائیر فورس کے بیشتر طیاروں کو ان کے ائیر بیسز پر ہی تباہ کر دیا تھا۔
اس سے قبل سنہ 2024ء کے اپریل اور اکتوبر کے مہینوں میں بھی دونوں ممالک کے درمیان براہِ راست فضائی اور میزائل حملوں کا تبادلہ ہوا تھا۔
ایران کے ایئر ڈیفنس سسٹم (فضائی دفاعی نظام) اور ایئر فورس (فضائیہ) کی طاقت کو شدید نقصان دو مراحل میں ہوا:
اسرائیل کی ائیر فورس نے اپنے جنگی طیاروں سے ایران کی فوجی تنصیبات پر ہمہ گیر حملہ کیا۔ اس حملے میں ایران کے سب سے جدید اور روس کے فراہم کردہ S-300 فضائی دفاعی نظام کی تمام چاروں بیٹریاں اور دو بڑے ‘غدیر’ ریڈار سسٹمز کو نشانہ بنا کر ناکارہ (Inoperable) کر دیا گیا۔ اس کارروائی نے ایرانی ائیر ڈیفینس کو مستقبل کے حملوں کے لیے انتہائی کمزور کر دیا اور ایرانی ائیر سپیس کو اسرائیلی ائیر فورس کے لئے بلا روک ٹوک آنے جانے کا علاقہ بنا دیا
13 جون سے 21 جون 2025ء کے درمیان ایرانی ایئر ڈیفنس کی تباہی مکمل ہو گئی؛ جنگ کے آغاز کے پہلے 48 گھنٹوں میں اسرائیلی فضائیہ نے ایران کے دفاعی نظام پر ٹارگٹڈ حملے کیے۔ سیٹلائٹ شواہد اور بین الاقوامی دفاعی رپورٹوں کے مطابق، تہران سمیت مختلف صوبوں میں ایران کے تقریباً 26 سے 80 فضائی دفاعی سائٹس اور ریڈار نیٹ ورکس کو مکمل تباہ یا شدید ڈیمیج کیا گیا، جس سے ایرانی فضائی حدود پر اسرائیل کو مکمل بالادستی حاصل ہو گئی۔
اسی جون 2025ء کی جنگ کے دوران اسرائیلی فضائی حملوں میں ایران کے متعدد ایئر بیسز کو تباہ کیا گیا۔
مہرآباد ایئر بیس اور شیراز ایئر بیس پر کھڑے ایران کے کم از کم 30 جنگی طیارے زمین پر ہی تباہ کر دیے گئے، جس سے ایرانی فضائیہ کی روایتی جنگ کرنے کی صلاحیت شدید ترین حد تک متاثر ہوئی۔
اگرچہ بعد میں جولائی 2025ء میں ایرانی فوج نے یہ دعویٰ کیا تھا کہ انہوں نے اپنے متبادل (ریزرو) سسٹمز کے ذریعے فضائی نیٹ ورک کو عارضی طور پر بحال کر لیا ہے۔ لیکن دفاعی ماہرین کے مطابق 2024ء اور 2025ء کے حملوں نے ایران کے مجموعی دفاعی اور روایتی فضائی ڈھانچے کو تلافی نہ ہونے والا نقصان ہوا جس کا اظہار حالیہ 28 فروری کی صبح سے شروع ہونے والی جنگ میں مسلسل ہوتا رہا۔





