Roze News

شاہ محمود قریشی اپنی بیرک کے احاطے میں چہل قدمی کے دوران اچانک بے ہوش ہو کر گر پڑے

شاہ محمود قریشی اپنی بیرک کے احاطے میں چہل قدمی کے دوران اچانک بے ہوش ہو کر گر پڑے

تازہ خبروں اور اہم اپڈیٹس کیلئے ہمارا وٹس ایپ چینل جوائن کریں۔

ان کے جسم پر چوٹیں بھی آئی ہیں، ڈاکٹر یاسمین راشد کے مشورے پر فوری سی ٹی اسکین اور مناسب طبی معائنے و علاج کیلئے عدالت میں درخواست دائر کر رہے ہیں؛ سابق وزیرخارجہ کے وکیل تیمور ملک کی ایکس پوسٹ

پاکستان تحریک انصاف کے نائب چیئرمین اور سابق وزیرِ خارجہ شاہ محمود قریشی کے وکیل تیمور ملک نے انکشاف کیا ہے کہ کوٹ لکھپت جیل لاہور میں قید کے دوران شاہ محمود قریشی اچانک بے ہوش ہو کر گر پڑے، جس کے نتیجے میں ان کے جسم پر چوٹیں آئی ہیں، اس تشویشناک صورتحال کے پیشِ نظر ان کی قانونی ٹیم نے عدالت سے ان کے فوری سی ٹی اسکین اور مکمل طبی معائنے کی استدعا کا فیصلہ کیا ہے۔

سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری کردہ بیان میں تیمور ملک ایڈووکیٹ نے بتایا کہ کوٹ لکھپت جیل میں مقدمے کی سماعت کے موقع پر شاہ محمود قریشی نے انہیں اور اپنے اہلِ خانہ کو اس ناخوشگوار واقعے سے آگاہ کیا، سابق وزیرِ خارجہ اپنی بیرک کے احاطے میں معمول کے مطابق چہل قدمی کر رہے تھے کہ اچانک انہیں چکر آیا اور وہ بے ہوش ہو کر زمین پر گر پڑے، اس اچانک حادثے کی وجہ سے ان کے جسم کے مختلف حصوں پر چوٹیں آئی ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ جیل میں موجود پی ٹی آئی کی سینئر رہنما اور معروف معالج ڈاکٹر یاسمین راشد کے طبی مشورے کو مدنظر رکھتے ہوئے قانونی ٹیم فوری قدم اٹھا رہی ہے، شاہ محمود قریشی کے فوری سی ٹی اسکین، تفصیلی طبی معائنے اور مناسب علاج کی فراہمی کے لیے لاہور کی انسدادِ دہشت گردی عدالت میں باقاعدہ درخواست دائر کی جا رہی ہے تاکہ ان کی صحت کو درپیش کسی بھی ممکنہ بڑے خطرے کا بروقت سدباب کیا جا سکے۔

ایڈووکیٹ تیمور ملک نے شاہ محمود قریشی کی طویل قید اور قانونی حیثیت پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ گزشتہ 3 سال سے زائد عرصے سے قید و بند کی صعوبتیں برداشت کر رہے ہیں جبکہ انہیں کسی بھی مقدمے میں سزا نہیں ہوئی ہے، لاہور کی انسدادِ دہشت گردی عدالت میں ان کی ضمانت کی 2 درخواستیں تاحال التوا کا شکار ہیں، اسی نوعیت کے دیگر مقدمات میں دیگر رہنماؤں کی بریت، شاہ محمود قریشی کی ضعیف العمر، بگڑتی ہوئی صحت اور طویل عرصے سے بلا سزا قید کو مدنظر رکھتے ہوئے انہیں میرٹ پر فوراً ضمانت ملنی چاہیے۔

سابق وزیر خارجہ کے وکیل نے عدالتی نظام اور قانونی طریقہ کار پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ بغیر کسی جرم یا سزا کے کسی شہری کو اتنے طویل عرصے تک جیل میں رکھنا بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے، آخر ایک شخص کو بغیر کسی سزا کے کب تک جیل میں رکھا جائے گا؟ انصاف میں مسلسل تاخیر بذاتِ خود ناانصافی کے مترادف ہے۔