منڈی بہاؤالدین گئی تو 21 سالہ لڑکی ملی جس کے دونوں ہاتھوں پر خون تھا، میں نے پیار کرکے پوچھا ہاتھوں پر خون کیسے لگا؟ اس نے کہا میں کراؤڈ کو چیرتی ہوئی آپ سے آٹوگراف لینے آئی ہوں؛ وزیراعلیٰ پنجاب کا خطاب
وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کا کہنا ہے کہ میں منڈی بہاؤالدین گئی تو وہاں ایک 21 سالہ لڑکی ملی جس کے دونوں ہاتھوں پر خون تھا، میں نے اسے پیار کرکے پوچھا کہ ہاتھوں پر خون کیسے لگا؟ اس نے مجھے کہا کہ میں کراؤڈ کو چیرتی ہوئی آپ سے آٹوگراف لینے آئی ہوں، یہ آنکھوں دیکھا واقعہ ہے، میں جھوٹ نہیں کہہ رہی۔
اٹک میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ مخالفین کا خیال تھا کہ وزارت اعلیٰ پر عوام اب مجھ سے کڑے سوالات کریں گے لیکن عوام کی محبت نے ان کے تمام اندازے غلط ثابت کردیئے، پہلے روایت یہ تھی کہ عام لوگوں اور کارکنوں کو سٹیج سے نیچے دھکا دے کر گرا دیا جاتا تھا لیکن میں خود عوام کے درمیان رہنے، ان کے دکھ درد سننے اور ان سے براہِ راست رابطے کو اپنی سیاست کا بنیادی محور سمجھتی ہوں۔
وزیراعلیٰ پنجاب کا کہنا تھا کہ زندگی میں مشکلات سے کبھی نہیں گھبرانا چاہیئے اور نہ ہی ہمت ہارنی چاہیئے، بڑی منزل پانے کے لیے آگ کے دریا سے گزرنا پڑتا ہے اور طویل قید و بند کی صعوبتیں اور جیلیں بھی کاٹنی پڑتی ہیں، اس لیے انسان کو کبھی دل چھوٹا نہیں کرنا چاہیئے، عوام کی خلوص نیت سے خدمت کرکے جو قلبی سکون ملتا ہے، وہ دنیا کی کسی اور چیز میں حاصل نہیں ہوسکتا۔
انہوں نے مزید کہا کہ اٹک کے مقامی بازار کو اس خوبصورتی سے جدید خطوط پر تعمیر و آرائش کیا گیا ہے کہ اس نے اب لاہور کی مشہور لبرٹی مارکیٹ کو بھی پیچھے چھوڑ دیا، بارش کے بعد پانی میں ڈوبنے والے اٹک شہر کے دیرینہ مسائل کو جڑ سے اکھاڑنے کے لیے اربوں روپے کی لاگت سے جاری میگا پراجیکٹس پر دن رات تیزی سے کام جاری ہے، اگر کوئی بھی شخص یہ ثابت کر دے کہ میں نے یا میرے کسی قریبی نے ایک روپیہ بھی کرپشن کی ہے تو میں اللہ اور اس ملک کے عوام کے سامنے کٹہرے میں جوابدہ ہوں گی۔
مریم نواز نے وفاقی وزیر چوہدری سالک حسین کے پنجاب میں کرپشن سے متعلق بیانات پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اگر چوہدری سالک کے پاس پنجاب حکومت یا ان کے خلاف کرپشن کے کوئی ثبوت ہیں تو وہ انہیں عوام کے سامنے لے کر آئیں، ورنہ وہ انہیں عدالت میں گھسیٹیں گی، ایک وفاقی وزیر ہونے کے ناطے بغیر کسی دستاویزی ثبوت کے ہوائی الزامات عائد کرنے سے گریز کرنا چاہیے، اگر موجودہ صوبائی حکومت اور نظام ان کی نظر میں اتنا ہی کرپٹ ہے، تو پھر وہ کس اخلاقی جواز کے تحت وفاقی وزارت کی کرسی پر بیٹھے ہیں؟۔
چوہدری سالک کی جانب سے سابق وزیراعلیٰ پنجاب پرویزالہٰی کی تعریف کرنے پر ان کا مؤقف تھا کہ وہ شخص کہتا ہے سب سے بہترین حکومت پرویز الہٰی کی تھی، لیکن حقیقت یہ ہے کہ جب میں بارش کے دوران گجرات گئی تو وہاں سڑکوں اور محلوں میں اتنا پانی جمع ہو چکا تھا کہ میری اپنی گاڑی تک پانی میں ڈوب گئی، میں کرپشن کے معاملے پر کسی کی بلیک میلنگ یا دباؤ میں نہیں آؤں گی، صوبے بھر میں تمام تقرریوں کو مکمل میرٹ کی بنیاد پر یقینی بنا رہی ہیں کیونکہ سفارش پر آنے والا ہر شخص ملک اور غریب عوام کا بیڑا غرق کرتا ہے۔




