ریاض نے ایران کی ثالثی کے ذریعے حوثیوں کے ساتھ مفاہمت کی کوشش کی ہے، جس کا مقصد سعودی سرزمین اور اہم تنصیبات پر میزائل اور ڈرون حملوں کو روکنا ہے.سابق سی آئی افسر جان کریاکو کا دعوی
سعودی عرب کی جانب سے یمن کے حوثی باغیوں کے میزائل اور ڈرون حملے رکوانے کے لیے ایک ارب ڈالر کی مبینہ پیشکش کا انکشاف ہوا ہے جبکہ سوشل میڈیا پر دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ سعودی وزیر دفاع شہزادہ خالد بن سلمان یہ رقم سی 130 فوجی طیارے کے ذریعے تہران لے کر گئے تاہم، رقم کی منتقلی اور حوثیوں کے ساتھ کسی حتمی جنگ بندی معاہدے کی آزادانہ تصدیق نہیں ہو سکی۔
سابق امریکی انٹیلی جنس اہلکار جان کریاکو نے سوشل میڈیا پر اپنے پروگرام”بریفینگ روم“ میں گفتگو میںدعوے کیا ہے کہ سعودی عرب نے ایران کی ثالثی کے ذریعے حوثیوں کے ساتھ مفاہمت کی کوشش کی ہے، جس کا مقصد سعودی سرزمین اور اہم تنصیبات پر میزائل اور ڈرون حملوں کو روکنا ہے. اسرائیلی اخبار” اسرائیل ہیوم “سے منسوب رپورٹ میں بھی سعودی عرب اور حوثیوں کے درمیان ممکنہ مفاہمت کے لیے مالی پیکیج کی اطلاعات سامنے آئی ہیں مبینہ طور پر اس رقم کا مقصد حوثیوں کے زیر کنٹرول علاقوں میں سرکاری ملازمین کی تنخواہوں کی ادائیگی اور بنیادی ڈھانچے کی بحالی میں مدد فراہم کرنا ہو سکتا ہے تاہم ایک ارب ڈالر نقد تہران لے جانے کے دعوے کی تصدیق کے لیے کوئی آزادانہ طور پر مستند ثبوت سامنے نہیں آیا۔
سعودی وزیر دفاع شہزادہ خالد بن سلمان کے دور ہ تہران کی اطلاعات کے مطابق، ملاقاتوں میں علاقائی سلامتی، کشیدگی میں کمی اور سفارتی رابطوں کے ذریعے تنازعات حل کرنے پر بات چیت ہوئی سعودی عرب اور ایران کے درمیان 2023 میں سفارتی تعلقات بحال ہونے کے بعد دونوں ممالک خطے میں کشیدگی کم کرنے کے لیے رابطے برقرار رکھے ہوئے ہیں ایران کے حوثی تحریک کے ساتھ قریبی تعلقات کے باعث تہران کو سعودی عرب اور حوثیوں کے درمیان ممکنہ مفاہمت میں اہم کردار کا حامل سمجھا جاتا ہے۔
سعودی عرب کے لیے حوثیوں کے میزائل اور ڈرون حملوں کی روک تھام اہم معاملہ ہے کیونکہ ایسے حملے تیل کی تنصیبات، ہوائی اڈوں اور دیگر اہم بنیادی ڈھانچے کے لیے خطرہ بن سکتے ہیں مبینہ معاہدے کے بارے میں سامنے آنے والی اطلاعات میں کہا گیا ہے کہ سعودی مالی معاونت کے بدلے حوثیوں سے حملے روکنے اور جنگ بندی برقرار رکھنے کی توقع کی جا سکتی ہے۔
تاہم اس مجوزہ انتظام کی حتمی شرائط، ادائیگی کے طریقہ کار اور فریقین کی جانب سے کسی باضابطہ معاہدے پر دستخط کی تصدیق نہیں ہوئی سعودی عرب اور حوثیوں کے درمیان گزشتہ برسوں میں جنگ بندی اور مذاکرات کی متعدد کوششیں ہو چکی ہیں، لیکن یمن کا تنازع مکمل طور پر حل نہیں ہو سکااس معاملے میں سب سے زیادہ توجہ سعودی وزیر دفاع کی جانب سے مبینہ طور پر ایک ارب ڈالر نقد لے جانے کے دعوے نے حاصل کی ہے سوشل میڈیا پوسٹس میں امریکی ساختہ سی 130 ہرکولیس فوجی ٹرانسپورٹ طیارے کا ذکر کیا گیا ہے۔
سی آئی اے کے سابق افسرجان کریاکو نے اسرائیلی انتخابات کے حوالے سے دعوی میں کہاکہ نیتن یاہو کے لیے حکومت بنانا ممکن نظرنہیں آرہا ‘ان کا کہنا ہے کہ اپوزیشن لیڈر اور اسرائیلی فوج کے سابق سربراہ گاڈی آئزنکوٹ اپنی پوزیشن میں تبدیلی لارہے ہیں اور اگر وہ اپنے اتحا دکی48نشستوں کے ساتھ عرب جماعتوں کواتحادمیں شامل کرنے میں کامیاب رہتے ہیں تو انہیں مزید19نشستوں کی حمایت مل جائے گی اور وہ آسانی کے ساتھ 61نشستیں حاصل کرکے حکومت بنانے کی پوزیشن میں آجائیں گے جبکہ وزیراعظم نیتن یاہو کی قیادت میں اتحاد کو مجموعی طور پر53نشستیں حاصل ہوئی ہیں اسرائیلی پارلیمان کی120نشستوں میں سے حکومت سازی کے لیے61نشستیں حاصل ہونا ضروری ہے۔





