امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ لوگ کہتے ہیں ہم جنگ میں ہیں، ہم اس وقت کوئی باقاعدہ جنگ نہیں لڑ رہے، یہ روایتی جنگ نہیں ہے،یہ بہت محدود نوعیت کی جنگ ہے۔فاکس نیوز کو انٹرویو میں ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ایران معاہدہ کرنے کا شدید خواہش مند ہے، معاہدہ نہ کیا تو جنگ چھڑ سکتی ہے، بہت زیادہ امکان یہی ہے کہ ہم معاہدہ کرلیں گے۔امریکی صدر کا کہنا تھا کہ ہم نے آپریشن مڈنائٹ ہیمر کے ذریعے ایران پر بمباری کی، ہم نے ایران کی تمام ممکنہ جوہری صلاحیت کو نشانہ بنایا، اب شاید ہمیں پک ایکس ماؤنٹین کو بھی نشانہ بنانا پڑے، ہم یہ کارروائی ہم صرف ایک گھنٹے میں کرسکتے ہیں۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ہم ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں دے سکتے، ایران جنگ پر 30 ارب ڈالر خرچ کرنا معمولی رقم ہے، ایران ایک خطرناک ملک ہے، جس نے ہمارے بہت سے لوگوں کو ہلاک کیا، قاسم سلیمانی اس کی ایک مثال ہے، وہ اب اس دنیا میں نہیں رہے۔واضح رہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان معاہدے کی امیدیں بڑھنے لگیں۔ امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے ایران کے ساتھ مذاکرات میں پیش رفت کی تصدیق کردی۔
فاکس نیوز سے گفتگو میں جے ڈی وینس نے کہا کہ ایرانی حکام کے ساتھ کئی مثبت بات چیت ہوئی ہیں اور صدر ٹرمپ بھی ممکنہ معاہدے کے امکانات سے مطمئن ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ مذاکرات کیلئے کوئی ڈیڈ لائن مقرر نہیں۔ تاہم ایران کو جوہری پروگرام دوبارہ تعمیر نہ کرنے کی ٹھوس اور قابلِ تصدیق یقین دہانی کرانا ہوگی۔امریکی نائب صدر نے کہا کہ سفارتی کوششیں جاری رہیں گی۔ لیکن صدر ٹرمپ کے پاس فوجی اور غیر فوجی دونوں آپشنز موجود ہیں۔





