ایران اور امریکا کے درمیان جنگ بندی معاہدے کیلئے سفارتی سرگرمیوں میں تیزی آگئی۔ ایک ہفتے میں تیسری بار قطری وفد تہران پہنچ گیا۔ عرب میڈیا کے مطابق قطری وزیراعظم کے مشیر کی سربراہی میں وفد نے ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی سے ملاقات کی۔ جس میں ممکنہ امریکی ایرانی معاہدے کے مسودے پر بات چیت ہوئی۔ رپورٹ کے مطابق معاہدے کے مسودے پر گزشتہ 8 روز سے مذاکرات جاری ہیں۔ جبکہ قطر دونوں ممالک کے درمیان اختلافات کم کرکے کسی سمجھوتے تک پہنچنے کی کوشش کر رہا ہے۔
دوسری جانب امریکی افواج نے ایران کے اسٹریٹجک جزیرے ’قشم‘ کو فوجی کارروائی کا نشانہ بنایا ہے۔ امریکی اخبار ’وال اسٹریٹ جرنل‘ نے امریکی حکام کے حوالے سے بتایا کہ قشم آئی لینڈ پر کی جانے والی کارروائی دراصل پچھلے چند ہفتوں کے دوران کی جانے والی ان محدود اور خفیہ فوجی ضربوں کا حصہ ہے جن کا باضابطہ اعلان نہیں کیا گیا تھا۔امریکی حکام نے ان اقدامات کو دفاعی نوعیت کا قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان کا مقصد آبنائے ہرمز میں تجارتی جہاز رانی کو درپیش ایرانی دھمکیوں کی صلاحیت کو کمزور کرنا ہے۔





