امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے یوکرینی صدر زیلنسکی سے ٹیلیفونک گفتگو کرتے ہوئے ان پر روسی آئل ریفائنریز پر حملے روکنے پر زور دیا ہے۔
امریکیمیڈیا کے مطابق یوکرین کے صدر ولودیمیر زیلنسکی اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان ہونے والی حالیہ ٹیلی فونک گفتگو سے متعلق نئی تفصیلات سامنے آئی ہیں۔
ذرائع نے بتایا کہ صدر ٹرمپ نے زیلنسکی سے روسی آئل ریفائنریز پر حملے روکنے کا مطالبہ کیا اور کہا کہ ایسے حملوں کے باعث عالمی سطح پر ڈیزل کی قیمتیں بڑھ رہی ہیں۔ ’گفتگو کے دوران ڈیزل کا لفظ کئی مرتبہ استعمال ہوا۔‘اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے موقع پر زیلنسکی اور ٹرمپ کی ملاقات عارضی طور پر منگل کو طے کی گئی ہے۔
یہ پہلا موقع نہیں کہ صدر ٹرمپ نے کہا ہو کہ انہوں نے زیلنسکی سے روسی آئل ریفائنریز پر حملے روکنے کو کہا۔ اس سے قبل بھی امریکی صدر نے کہا تھا کہ انہوں نے یوکرینی صدر سے روسی آئل ریفائنریز پر حملے روکنے کی درخواست کی، جس کی وجہ انہوں نے ایندھن کی بڑھتی ہوئی قیمتیں قرار دی تھیں۔
ٹرمپ اس سے قبل یہ بھی کہہ چکے ہیں کہ یوکرین کو روسی تنصیبات پر حملے روک دینے چاہئیں، کیونکہ ان کے بقول ایسے حملے عالمی سطح پر ڈیزل کی قلت میں اضافے کا سبب بن رہے ہیں۔ امریکی صدر کے مطابق زیلنسکی کو اپنی حکمت عملی تبدیل کرنی چاہیے۔
دوسری جانب روسی صدارتی محل کریملن ڈونلڈ ٹرمپ کی ٹیم کے نمائندوں کے ساتھ ایک اور ملاقات کی تیاری کر رہا ہے۔ روسی سفارت کاروں کے مطابق مذاکرات کا بنیادی مقصد امریکا اور روس کے تعلقات میں موجود ’’ریڈ لائنز‘‘ کو ختم کرنا ہے۔

Leave feedback about this