رجسٹریشن کے آسان عمل کی بدولت زیادہ مستحق شہری اس سہولت سے فائدہ اٹھا رہے ہیں، ٹیکنالوجی پر مبنی یہ شفاف سبسڈی اسکیم مستقبل میں عوامی فلاح و بہبود کے اقدامات کیلئے گیم چینجر ثابت ہوگی؛ شہبازشریف کی گفتگو
وزیراعظم محمد شہباز شریف نے سبسڈی نہ دینے والے پٹرول پمپس کے لائسنس منسوخ کرنے کا حکم دے دیا، یہ فیصلہ وزیراعظم کی زیرِ صدارت پرائم منسٹر فیول ریلیف پروگرام کے حوالے سے ایک اعلیٰ سطح کے اجلاس میں کیا گیا، جس میں اس فلاحی پروگرام پر اب تک ہونے والی پیشرفت کا تفصیلی جائزہ لیا گیا، اجلاس کے دوران وزیراعظم نے پروگرام کے انتظامی امور، شفافیت اور عام آدمی کو پہنچنے والے ریلیف پر مکمل اطمینان کا اظہار کیا۔
وزیراعظم شہباز شریف نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حکومت نے شہریوں کی سہولت کے لیے رجسٹریشن اور سبسڈی کے حصول کے طریقہ کار کو انتہائی آسان اور سہل بنا دیا ہے، اس احسن اقدام کے نتیجے میں ملک بھر سے رجسٹریشن کے عمل میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا، جس کی بدولت زیادہ سے زیادہ مستحق اور غریب شہری اس سہولت سے براہِ راست مستفید ہو رہے ہیں، یہ ٹیکنالوجی پر مبنی اور مکمل طور پر شفاف سبسڈی اسکیم مستقبل میں ملک کے اندر عوامی فلاح و بہبود کے دیگر فلاحی اقدامات کے لیے ایک گیم چینجر ثابت ہوگی۔
اس موقع پر وزیراعظم نے اس سکیم کی مانیٹرنگ کے لیے ایک کارگر، جدید اور فعال ڈیش بورڈ ترتیب دینے پر وفاقی وزیر انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کام شزہ فاطمہ، وفاقی سیکریٹری انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کام ضرار حاشم خان اور ان کی پوری ٹیم کی بھرپور پذیرائی کی، اجلاس میں بتایا گیا کہ نظام کی شفافیت کو برقرار رکھنے کے لیے جدید ترین ٹیکنالوجی کا استعمال کیا جا رہا ہے۔
اجلاس کے دوران وزیراعظم شہباز شریف نے سخت احکامات جاری کرتے ہوئے کہا کہ پٹرولیم سبسڈی سکیم کے تحت رجسٹرڈ مستحقین کو سہولت فراہم کرنے سے گریز یا لیت و لعل سے کام لینے والے پٹرول پمپس کے خلاف فوری اور سخت قانونی کارروائی کی جائے، ایسے تمام پٹرول پمپس کے لائسنس فی الفور منسوخ کردیئے جائیں تاکہ عوام کو ملنے والے ریلیف میں کوئی رکاوٹ حائل نہ ہو سکے۔
اجلاس کو بریفنگ کے دوران حکام نے بتایا کہ پرائم منسٹر فیول ریلیف پروگرام کے تحت اب تک ملک بھر سے 1 کروڑ 55 لاکھ 19 ہزار 282 شہری کامیابی کے ساتھ رجسٹر ہو چکے ہیں، ان رجسٹرڈ مستحقین میں 1 کروڑ 50 لاکھ سے زائد موٹر بائیکس مالکان جب کہ 4 لاکھ 49 ہزار 800 سی سی تک کی چھوٹی گاڑیوں کے مالکان شامل ہیں، مزید برآں اس سبسڈی سکیم کے تحت اب تک کل 6 کروڑ 31 لاکھ 53 ہزار 685 ٹوکنز جاری کیے جا چکے ہیں، جن میں سے 5 کروڑ 94 لاکھ 45 ہزار 347 ٹوکنز کو کامیابی کے ساتھ استعمال اور ریڈییم کیا جا چکا ہے، 4 نومبر 2026ء تک اس فیول سبسڈی اسکیم کے تحت مستحقین میں مجموعی طور پر 28.6 ارب روپے کی بھاری ادائیگیاں کی جا چکی ہیں۔
بریفنگ کے دوران وزیراعظم کو یہ بھی آگاہ کیا گیا کہ پرائم منسٹر فیول ریلیف اسکیم کے حوالے سے معلومات کی فراہمی اور صارفین کی شکایات کے فوری ازالے کے لیے خصوصی انتظامات کیے گئے ہیں، اس مقصد کے تحت عام صارفین اور پٹرول پمپس کے مالکان کے لیے الگ الگ ہیلپ لائنز اور کال سینٹرز قائم کردیئے گئے ہیں تاکہ کسی بھی تکنیکی یا انتظامی مسئلے کو فوراً حل کیا جا سکے۔
بتایا جارہا ہے کہ اجلاس میں نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ محمد اسحاق ڈار، وفاقی وزیر اقتصادی امور احد خان چیمہ، وفاقی وزیر موسمیاتی تبدیلی مصدق ملک، وفاقی وزیر خزانہ و محصولات محمد اورنگزیب شریک ہوئے، ان کے علاوہ وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ، وزیر پٹرولیم ڈویژن علی پرویز ملک، وزیر مملکت برائے خزانہ بلال اظہر کیانی، وزیراعظم کے معاون خصوصی طارق باجوہ، وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے توانائی لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ ظفر اقبال اور دیگر متعلقہ اعلیٰ سرکاری افسران شامل تھے۔





