افغانستان کے دارالحکومت کابل کے علاقے کوہِ دامن میں انگور کے متعدد کاشتکاروں نے اپنی فصل کی گرتی ہوئی قیمتوں، کولڈ اسٹوریج کی عدم دستیابی اور عالمی منڈیوں تک محدود رسائی پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔
کاشتکاروں کا کہنا ہے کہ ملکی منڈیوں میں قیمتوں میں شدید گراوٹ کی وجہ سے وہ پھل انتہائی کم قیمتوں پر بیچنے پر مجبور ہیں، یہاں تک کہ ان کی لاگت اور پیداواری اخراجات بھی پورے نہیں ہو پا رہے۔
افغان میڈیا کے مطابق معاشی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ معیاری کولڈ اسٹوریج کی شدید قلت اور عالمی منڈیوں تک رسائی نہ ہونے کے باعث پیداوار فروخت کرنے کے مواقع انتہائی محدود ہو چکے ہیں جس کے نتیجے میں کوہِ دامن اور افغانستان کے دیگر حصوں میں کاشکاروں کی آمدنی میں نمایاں کمی آئی ہے۔
کابل کے ضلع فرزہ کے رہائشی اور انگور کے باغ کے مالک گل احمد کا کہنا ہے کہ حالیہ برسوں میں مارکیٹ میں انگور کی قیمتیں گرنے کی وجہ سے وہ اپنی فصل تاجروں کو انتہائی ارزاں نرخوں پر فروخت کرنے پر مجبور ہوئے ہیں، یہاں تک کہ فصل پر آنے والے اخراجات بھی پورے نہیں ہوسکے۔
فرزہ کے اس رہائشی نے تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ ’سال کے آغاز میں، میں نے اپنے باغ کی دیکھ بھال کے لیے دیہاڑی دار مزدور رکھے، کھاد خریدی اور پانی کی قلت کا مسئلہ حل کرنے کے لیے ایک گہرا کنواں کھودنے پر تقریباً 4 لاکھ افغانی خرچ کیے۔ لیکن اب جب میں نے انگور کی فصل اتاری ہے تو میں تمام 560 کلوگرام انگور تاجروں کو صرف 4 ہزار افغانی میں بیچنے پر مجبور ہوا ہوں۔ یہ رقم میرے اخراجات کے قریب بھی نہیں پہنچتی۔ اگر میں انگور نہ بیچتا تو وہ وہیں گل سڑ جاتے۔ دوسری طرف، کولڈ اسٹوریج سہولیات کی تعداد انتہائی محدود ہیں اور ان میں فصل رکھنے کے اخراجات بہت زیادہ ہیں۔ بلکہ یوں کہہ لیں کہ پورے کوہِ دامن میں ایک بھی فعال کولڈ اسٹوریج موجود نہیں ہے‘۔
انہوں نے مزید بتایا کہ ماضی میں جب پاکستان کے ساتھ تجارتی راستے کھلے رہتے تھے تو وہ اپنے انگور کہیں بہتر قیمت پر فروخت کیا کرتے تھے۔ تاہم ان کا کہنا ہے کہ قیمتوں میں موجودہ گراوٹ اور منڈیوں تک محدود رسائی نے انہیں اور دیگر تمام کاشتکاروں کو شدید معاشی تنزلی اور مشکلات میں مبتلا کر دیا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ ’ماضی میں جب پاکستان کے راستے کھلے تھے، تو میں ہر خروار (560 کلوگرام) انگور 20 ہزار سے 30 ہزار افغانی میں بھی فروخت کرتا تھا۔ لیکن اب اس تمام محنت اور بھاری اخراجات کے باوجود مجھے اپنی فصل انتہائی کم قیمت پر بیچنی پڑ رہی ہے۔ ہم اس تمام بے سود اور لاحاصل محنت سے سخت دلبرداشہ ہو چکے ہیں‘۔
کوہِ دامن کے ایک اور رہائشی نے مالیاتی بوجھ اور طالبان کے ٹیکسوں کا ذکر کرتے ہوئے افغان میڈیا کو بتایا کہ ‘خیر خانہ پاس’ سے گزرنے والی انگور کی ہر بوری پر 30 روپے وصول کیے جاتے ہیں جبکہ کاشتکار سے 50 روپے الگ وصول کیے جاتے ہیں۔ لوگوں نے مجبوری میں اپنے انگوروں کو کشمش میں تبدیل کر لیا ہے لیکن اب کشمش کا بھی کوئی خریدار نہیں ہے۔





