واشنگٹن: امریکی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی اور ان کے وفد کو نیویارک چھوڑنے کا حکم دیا تھا۔میڈیا رپورٹ میں دعویٰ کیا کہ مارکو روبیو نے پیر کے روز اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی میں شرکت کے لیے آئے ایرانی وفد کو فوری طور پر ملک چھوڑنے کا حکم دیا۔
وزیر خارجہ نے یہ ہدایت امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات میں پیش رفت نہ ہونے کے بعد دی تھی، جس کے بعد ایرانی وفد پیر کی رات نیویارک سے روانہ ہو کر منگل کو دوحہ پہنچا تھا۔وائٹ ہاؤس کو مذاکرات میں پیشرفت کی امید تھی لیکن بات چیت ڈیڈ لاک کا شکار ہو گئی۔
اگرچہ غالب امکان تھا کہ ایرانی وفد ویسے بھی جلد روانہ ہو جاتا، لیکن روبیو کا یہ اقدام ایک غیر معمولی سفارتی سرزنش تھا اور اس نے دونوں ممالک کے درمیان گہرے عدمِ اعتماد کو مزید عیاں کر دیا۔قطری ثالثوں نے امریکا اور ایران کے درمیان سفارتی پیش رفت کرانے کی کوشش کی، لیکن اس میں بہت کم پیش رفت ہوئی، کیوں کہ دونوں میں سے کوئی بھی اپنے مؤقف سے پیچھے ہٹنے کے لیے تیار نہیں تھا۔
نیویارک چھوڑنے کا حکم پانے والوں میں روبیو کے ایرانی ہم منصب، وزیرِ خارجہ عباس عراقچی، بھی شامل تھے۔ ایک امریکی عہدیدار نے کہا کہ وزیر خارجہ روبیو نے ایرانی وفد کو اس لیے نکالا، کیوں کہ وہ اپنی میزبانی کی مدت سے زیادہ ٹھہر چکے تھے۔ اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی ختم ہو چکی تھی، اس لیے اب ان کے جانے کا وقت تھا۔
پیر کی صبح وائٹ ہاؤس کو امید تھی کہ دن کے آخر میں ایران کے ساتھ مذاکرات میں پیش رفت ہو سکتی ہے لیکن سہ پہر ڈھلنے تک واضح ہو گیا کہ مذاکرات تعطل کا شکار ہو چکے ہیں۔ اس کے بعد پیر کی شام روبیو کے حکم پر اقوامِ متحدہ میں امریکی مشن نے اقوامِ متحدہ میں ایرانی مشن کو مطلع کیا کہ عراقچی کے وفد کو فوری طور پر نیویارک چھوڑنا ہوگا۔

Leave feedback about this