چین نے 2030 تک اپنے اولین خلا بازوں کو چاند پر بھیجنے کے منصوبے کی تفصیلات جاری کی ہیں۔گزشتہ دنوں بیجنگ میں ایک خلائی کانفرنس کے موقع پر چینی خلائی ادارے کے حکام نے یہ تفصیلات بتائیں۔چینی میڈیا کے مطابق چینی خلائی پروگرام کے تحت ابتدائی آزمائشی مرحلے کے دوران کسی انسان کو چاند کی جانب سے نہیں بھیجا جائے گا۔اس سلسلے میں مینگ زو اسپیس کیپسول میں پہلا مشن انسانی عملے کے ساتھ 2027 میں زمین کے مدار پر بھیجا جائے گا۔اس کے بعد روبوٹس کو استعمال کیا جائے گا۔
2028 میں دی Lanyue لینڈر چاند پر اترے گا جبکہ 2029 میں ایک اور مشن چاند پر اترنے کے مرحلے کے ریہرسل کے طور پر بھیجا جائے گا۔چین کے چاند سے منسلک خلائی پروگرام کے چیف ڈیزائنر وانگ شیانگ نے کہا کہ ہم پہلے بغیر انسانوں والے مشنز کی آزمائش کریں گے۔حکام کے مطابق روبوٹس پر مشتمل پروازیں پہلے انسانی مشن کی لینڈنگ کو محفوظ بنائیں گی۔یہ روبوٹیک لینڈر سائنسی ڈیٹا بھی اکٹھا کریں گے جبکہ چاند کی سطح کے درجہ حرارت کی جانچ پڑتال کریں گے۔
2029 کی ریہرسل میں ہر قدم کا تجزیہ کیا جائے گا جبکہ خلائی پروگرام کے تحت راکٹ، کیسپول اور لینڈر کی ابتدائی آزمائشوں کو پہلے ہی مکمل کرلیا گیا ہے۔چین کی جانب سے 2 لانگ مارچ 10 راکٹوں کے ذریعے اسپیس کیسپولز اور لینڈر کو الگ الگ لانچ کیا جائے گا اور یہ دونوں چاند کے مدار میں جاکر آپس میں جڑ جائیں گے۔2030 میں بھیجے جانے والے انسان بردار مشن میں 3 خلا بازوں کو شامل کیا جائے گا جن میں سے 2 چاند کی سطح پر اتریں گے۔اس مشن میں شامل عملہ 3 دن تک چاند کی سطح پر قیام کرے گا۔





