Roze News

عوام کے پیسے کی ایک پائی بھی ادھر اُدھر کی ہو تو استعفیٰ دے دوں گی، مریم نواز

عوام کے پیسے کی ایک پائی بھی ادھر اُدھر کی ہو تو استعفیٰ دے دوں گی، مریم نواز

تازہ خبروں اور اہم اپڈیٹس کیلئے ہمارا وٹس ایپ چینل جوائن کریں۔

یہ دعویٰ نہیں کرتی کہ پنجاب میں کرپشن مکمل طور پر ختم ہو چکی ہے، حکومت کی کوشش ہے کہ سرکاری اداروں میں بدعنوانی کا خاتمہ ہواور عوام کو ریلیف فراہم کیا جائے، وزیر اعلیٰ پنجاب کا تقریب سے خطاب

وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے کہا ہے کہ اگر کوئی یہ ثابت کر دے کہ انہوں نے عوام کے پیسے کی ایک پائی بھی ادھر سے اُدھر کی ہے تو وہ فوری طور پر اپنے عہدے سے استعفیٰ دے کر چلی جائیں گی۔ انہوں نے اعتراف کیا کہ سرکاری محکموں میں کرپشن اب بھی موجود ہے، تاہم حکومت بدعنوان عناصر کے خلاف کارروائیاں کر رہی ہے۔

پنجاب انوویشن فار ویلیوا پر چونٹی اینڈ ٹرانسفارمیشن منصوبے کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے خطاب کرتے ہوئے مریم نواز کا کہنا تھا کہ وہ یہ دعویٰ نہیں کرتیں کہ پنجاب میں کرپشن مکمل طور پر ختم ہو چکی ہے، لیکن حکومت کی کوشش ہے کہ سرکاری اداروں میں بدعنوانی کا خاتمہ کیا جائے اور عوام کو ریلیف فراہم کیا جائے۔

انہوں نے کہا کہ چاہے محکمہ ماحولیات ہو یا کوئی دوسرا سرکاری ادارہ، کرپٹ عناصر کے خلاف کارروائی جاری ہے تاکہ کسی شہری کو اپنے جائز کام کے لیے سرکاری دفتر جانے پر رشوت دینے پر مجبور نہ ہونا پڑے۔

وزیراعلیٰ پنجاب نے کہا کہ یہ حقیقت ہے کہ آج بھی بعض سرکاری دفاتر میں لوگوں کو یہ کہا جاتا ہے کہ جب تک پیسے نہیں دیں گے، ان کا کام نہیں ہوگا۔ میں اس بات سے انکار نہیں کر رہی کہ ایسا ہو رہا ہے، لیکن ہماری کوشش ہے کہ اس نظام کو تبدیل کیا جائے اور شہریوں کو بغیر رشوت اپنے جائز کام کروانے کی سہولت فراہم کی جائے۔ مریم نواز کا مزید کہنا تھا کہ ماحولیاتی تحفظ انتہائی ضروری ہے، تاہم اس کے نام پر فیکٹریوں اور صنعتی یونٹس کو بند کرنا مناسب طریقہ نہیں، کیونکہ اس سے نہ صرف صنعتی پیداوار متاثر ہوتی ہے بلکہ ہزاروں مزدوروں کے روزگار پر بھی اثر پڑتا ہے۔

متعلقہ محکمے صنعتوں کی نگرانی کریں، انہیں وارننگز جاری کریں اور ماحولیاتی قوانین پر عمل درآمد یقینی بنائیں، لیکن فیکٹریوں کا کام بند کرانے سے گریز کیا جائے۔ مریم نواز نے کہا کہ جس ملک میں روزانہ احتجاج ہوں، میٹرو جلائی جائے، آگ لگائی جائے اور لوگ ڈنڈے لے کر سڑکوں پر نکل آئیں، وہاں فیکٹری کھلنے کے بعد مزدور اپنے کام پر کیسے پہنچے گا؟ انہوں نے کہا کہ نواز شریف اور شہباز شریف کو اورنج لائن میٹرو ٹرین اور گرین بس سروس متعارف کرانے کا کریڈٹ دینا چاہیے، کیونکہ ان سہولیات کے ذریعے مزدور صرف 20، 30 یا 40 روپے خرچ کرکے کام پر پہنچ سکتے ہیں۔

وزیراعلیٰ نے فیروزپور روڈ پر قائم صنعتی کلسٹر کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ وہاں کی صنعتوں کو بار بار کاروبار دوسری جگہ منتقل کرنے کے لیے کہا جاتا ہے، حالانکہ صنعتی سرگرمیوں اور مزدوروں کے روزگار کا تحفظ بھی ضروری ہے۔ انہوں نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ ماحولیات کی نگرانی جاری رکھیں لیکن فیکٹریاں بند کرنے کے بجائے قابل عمل اقدامات کریں۔

ان کا سرمایہ کاروں کو مخاطب کرتے ہوئے کہنا تھا کہ اگر آپ بزنس لے کے آرہے ہیں تو میں نہیں پوچھوں گی کہ آپ پیسہ کہاں سے لارہے ہیں، یہ نواز شریف کا پنجاب ہے، یہ ان کی پالیسی ہے، میں نے اس لیے دو سال سےنئے کاروبار پر کوئی نیا ٹیکس لاگو نہیں کیا۔

وزیر اعلیٰ پنجاب نے کہا کہ پنجاب میں پہلی مرتبہ ہنرمندی کی تربیت کے شعبے کو مربوط انداز میں آگے بڑھایا جا رہا ہے۔

اس مقصد کے لیے مختلف محکموں کو ایک نظام کے تحت جمع کیا گیا اور اربوں روپے کی سرمایہ کاری کی گئی ہے۔ ان کے مطابق صرف 12 ماہ میں 4 لاکھ نوجوانوں کو تربیت فراہم کی گئی ہے جبکہ اگلے سال مزید 6 لاکھ افراد کو ہنرمند بنانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ٹیکسٹائل، گارمنٹس اور دیگر صنعتی شعبوں کی ضروریات کے مطابق نوجوانوں کو تربیت دی جا رہی ہے تاکہ انہیں روزگار کے بہتر مواقع مل سکیں۔

بیرون ملک ملازمت حاصل کرنے والے پاکستانیوں کے لیے بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ سرٹیفکیشن کا نظام بھی متعارف کرایا جا رہا ہے۔ ویزا اور سفری اخراجات برداشت نہ کر سکنے والے نوجوانوں کی مدد کے لیے پرواز کارڈ شروع کیا گیا ہے، جس کے ذریعے سینکڑوں نوجوان بیرون ملک روزگار حاصل کر رہے ہیں۔ وزیراعلیٰ نے قبضہ مافیا کے خلاف کارروائیوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ پنجاب میں کسی کو بھی سیاسی اثرورسوخ کی بنیاد پر کسی دوسرے کی زمین، گھر، فیکٹری یا پلاٹ پر ناجائز قبضے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

ان کا کہنا تھا کہ 25، 25 سال پرانی جائیدادوں سے بھی ناجائز قبضے ختم کرائے جا رہے ہیں اور اس کارروائی میں کسی بااثر شخص کو رعایت نہیں دی جا رہی۔ مریم نواز نے وزرا کو بھی ہدایت کی کہ سرکاری پروٹوکول کے نام پر سڑکیں بند کرنے اور نیلی بتیاں جلا کر عوام کو پریشان کرنے سے گریز کریں۔ انہوں نے کہا کہ ضروری سکیورٹی ضرور حاصل کریں لیکن پروٹوکول غیر نمایاں ہونا چاہیے تاکہ حکام عوام سے الگ تھلگ نہ ہوں۔ تجاوزات کے خلاف کارروائیوں پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بازاروں اور گزرگاہوں کو کھلا رکھنا ضروری ہے۔ ریڑھی والوں کے لیے مخصوص جگہیں ہونی چاہئیں جبکہ راستے آمدورفت کے لیے ہیں۔