Roze News

مولانا فضل الرحمان نے لائن کراس کی ہے، اب انہیں ہر صورت جواب ملے گا، محسن نقوی

مولانا فضل الرحمان نے لائن کراس کی ہے، اب انہیں ہر صورت جواب ملے گا، محسن نقوی

تازہ خبروں اور اہم اپڈیٹس کیلئے ہمارا وٹس ایپ چینل جوائن کریں۔

ریاست اُس دن تک ماں ہوتی ہے جب تک یہ اسے نچوڑتے ہیں، ریاست سے مال لیتے ہیں تو ریاست اچھی ہوتی ہے، جب حکومت میں حصہ نہ ملے تو ریاست پر تھوک دو؛ وفاقی وزیر داخلہ کا سینیٹ میں اظہار خیال

وفاقی وزیر داخلہ سینیٹر محسن نقوی نے کہا ہے کہ مولانا فضل الرحمان کا بہت احترام کرتا تھا، ریاست سے متعلق بیان کے بعد احترام کی گنجائش نہیں رہی، ریاست اُس دن تک ماں ہوتی ہے جب تک یہ اسے نچوڑتے ہیں، ریاست سے مال لیتے ہیں تو ریاست اچھی ہوتی ہے، جب حکومت میں حصہ نہ ملے تو ریاست پر تھوک دو، انہوں نے لائن کراس کی ہے، اب انہیں ہر صورت جواب ملے گا۔

سینیٹ کے اجلاس میں خطاب کرتے ہوئے جمعیت علمائے اسلام ف کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کے حالیہ بیانات پر انتہائی سخت ردعمل دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ مولانا فضل الرحمان کا ذاتی طور پر بہت احترام کرتا تھا لیکن ریاست کے خلاف دیئے گئے ناشائستہ بیان کے بعد اب دل میں ان کے لیے احترام کی کوئی گنجائش باقی نہیں رہی، مولانا فضل الرحمان کا وطیرہ ہے کہ اگر انہیں حکومت میں حصہ اور مراعات ملیں تو سب ٹھیک رہتا ہے، لیکن جیسے ہی اقتدار یا حکومت میں کوئی کردار نہ ملے تو وہ ریاست اور اداروں کے خلاف باتیں کرنا شروع کر دیتے ہیں۔

وزیر داخلہ نے کہا کہ ریاست اس وقت تک ان کے لیے ماں کی مانند ہوتی ہے جب تک یہ اس سے فائدے حاصل کرتے اور اسے نچوڑتے رہتے ہیں، تاہم اقتدار سے محرومی پر وہی ریاست ان کی تنقید کا ہدف بن جاتی ہے، اب جے یو آئی کو ریاست کی جانب سے نہ تو نوکری ملے گی، نہ پیسے اور نہ ہی ٹکٹیں فراہم کی جائیں گی، انہوں نے سرخ لکیر عبور کی ہے اور اب انہیں ہر بات کا بھرپور جواب دیا جائے گا۔

اپنی تقریر کے دوران وزیر داخلہ نے سینیٹر بیرسٹر علی ظفر کو مخاطب کرتے ہوئے انکشاف کیا کہ جو لوگ آج اپوزیشن بن کر آپ کے ساتھ بیٹھتے ہیں، خیبرپختونخواہ میں گورنر راج کے نفاذ سے قبل یہی لوگ ہمیں کہتے تھے کہ جلد سے جلد گورنر راج نافذ کیا جائے، یہ گورنر راج سے پہلے کہتے تھے گورنر راج لگائیں ہماری اِن سے جان چھڑائیں، یہ بات ثابت کر سکتا ہوں، مذہب، اسلام اور آئین کو صرف اپنے سیاسی و ذاتی کاروبار اور مفادات کے لیے استعمال کیا گیا ہے۔

ایران کے حالیہ دورے پر اٹھائے گئے سوالات کی وضاحت کرتے ہوئے وزیر داخلہ نے نے کہا کہ کل ایوان میں غلط بیانی کی گئی کہ ہم ایران میں کوئی دفاعی معاہدہ کرنے گئے تھے، وہاں کا دورہ کسی دفاعی معاہدے کے لیے نہیں تھا اور نہ ہی میں کسی ذاتی شوق کی بنا پر وہاں گیا تھا بلکہ وزیراعظم پاکستان نے انہیں ایک خصوصاً ٹاسک سونپا تھا جس کا مقصد خطے کی موجودہ نازک صورتحال کو سنبھالنا تھا، سیاسی اختلاف اور تنقید جمہوریت کا حسن ہے لیکن کچھ اخلاقی حدود ایسی ہوتی ہیں جن کی پاسداری ہر سیاستدان پر لازم ہے۔