والدین کے وفات پانے کے بعد بیٹیوں کو پنشن کے حق سے محروم کرنے کا فیصلہ آئین سے متصادم ہے، تمام متاثرہ خواتین کو پنشن ادا کی جائے؛ لاہور ہائی کورٹ راولپنڈی بینچ کا حکم
لاہور ہائی کورٹ راولپنڈی بنچ نے ایک تاریخی اور اہم ترین فیصلہ سناتے ہوئے پنجاب حکومت کی جانب سے طلاق یافتہ، بیوہ اور غیر شادی شدہ بیٹیوں کی فیملی پنشن ختم کرنے کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا، عدالت نے اپنے تفصیلی فیصلے میں حکم دیا ہے کہ پنجاب حکومت تمام متاثرہ خواتین کو ان کا شرعی اور آئینی حق دیتے ہوئے فیملی پنشن کی ادائیگی فوری طور پر بحال کرے۔
اطلاعات کے مطابق لاہور ہائی کورٹ راولپنڈی بنچ کے فاضل جج احسن رضا کاظمی نے متاثرہ خاتون فلک شاہ کی جانب سے دائر کی گئی آئینی پٹیشن پر سماعت مکمل ہونے کے بعد یہ فیصلہ سنایا، عدالت نے اپنے حکم نامے میں قرار دیا کہ والدین کی وفات کے بعد ان کی بے سہارا، غیر شادی شدہ، مطلّقہ یا بیوہ بیٹیوں کو فیملی پنشن سے محروم کرنا آئینِ پاکستان میں دیئے گئے بنیادی حقوق اور سماجی تحفظ کے صریحاً متصادم ہے۔
معلوم ہوا ہے کہ کیس کی سماعت کے دوران پنجاب کی وزارتِ خزانہ اور ایڈوکیٹ جنرل پنجاب کے نمائندوں کی جانب سے حکومت کے اس اقدام کے دفاع میں مختلف مالی و انتظامی دلائل پیش کیے گئے، تاہم عدالت عالیہ نے ان تمام دلائل اور مؤقف کو یکسر مسترد کر دیا، عدالتی فیصلے میں کہا گیا ہے کہ ریاست کا کام بے سہارا اور مستحق شہریوں کی سرپرستی کرنا ہے نہ کہ ان سے پہلے سے موجود بنیادی سہولیات اور قانونی مالی حقوق چھین لینا، مالی بحران یا بجٹ خسارے کا بہانہ بنا کر کسی بھی صورت معاشرے کے مستحق طبقے سے ان کا حقِ زیست نہیں چھینا جا سکتا۔
واضح رہے کہ محکمہ خزانہ پنجاب کے ایک فیصلے کے تحت فیملی پنشن کی سہولت کو صرف مرحوم سرکاری ملازم کی بیوہ تک ہی محدود کر دیا گیا تھا، پنجاب کے 42 سے زائد مختلف سرکاری اداروں کے فوت شدہ ملازمین کی مستحق بیٹیوں اور مطلّقہ خواتین کو دی جانے والی فیملی پنشن یکسر بند کر دی گئی تھی، اس اقدام کی وجہ سے ہزاروں معذور، بے سہارا اور غریب خواتین شدید مالی مشکلات اور فاقہ کشی کا شکار ہو گئی تھیں۔





