Roze News

خیبرپختونخوا: پی ٹی آئی دور اقتدار میں معدنیات کے شعبے میں تاریخ کی بدترین کرپشن بے نقاب

پختونخوا؛ پی ٹی آئی دور اقتدار میں معدنیات کے شعبے میں تاریخ کی بدترین کرپشن بے نقاب

تازہ خبروں اور اہم اپڈیٹس کیلئے ہمارا وٹس ایپ چینل جوائن کریں۔

پشاور: خیبر پختونخوا میں پی ٹی آئی دورِ اقتدار میں معدنیات کے شعبے میں تاریخ کی بدترین کرپشن اور لوٹ مار بے نقاب ہوگئی۔سرکاری آڈٹ رپورٹ میں قرار دیا گیا ہے کہ یہ محض بدانتظامی نہیں بلکہ منظم کرپشن ہے، جس سے خیبرپختونخوا کے خزانے کو صرف ایک سال میں 16 ارب 94 کروڑ روپے سے زائد کا نقصان پہنچایا گیا۔

آڈٹ رپورٹ کے مطابق پی ٹی آئی حکومت کی سرپرستی اور مجرمانہ گٹھ جوڑ سے صرف سال 2022 اور 2023 کے دوران غیر قانونی کان کنی کے ذریعے 8 ارب روپے سے زائد کی لوٹ مار کی گئی۔ نادہندہ ٹھیکے داروں سے 4 ارب 31 کروڑ روپے کے واجبات جان بوجھ کر وصول نہیں کیے گئے، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ کرپشن کو سرکاری سرپرستی حاصل تھی۔

رپورٹ میں مزید انکشاف ہوا کہ چیک پوسٹوں، انسپکٹرز اور محکمہ معدنیات کی موجودگی کے باوجود غیر قانونی مائننگ پورے صوبے میں جاری رہی، جس سے مزید 3 ارب 8 کروڑ روپے صوبائی خزانے سے نکال لئے گئے۔ اسی طرح شاہراہوں اور اسمال ڈیمز کی تعمیر کے نام پر بجری اور ریت کے غیر قانونی طور پر نکالے جانے سے 3 ارب 7 کروڑ روپے ہڑپ کرلیے گئے۔

سرکاری آڈٹ رپورٹ کے مطابق معدنیات پر عائد ایکسائز ڈیوٹی کی مد میں 54 کروڑ 72 لاکھ روپے وصول ہی نہیں کیے گئے، جبکہ کوئلہ، باکسائیٹ، لائم اسٹون اور سوپ اسٹون کی کانوں سے 81 کروڑ روپے سے زائد کے بقایاجات بھی معاف کردیے گئے۔