وفاقی وزیر پارلیمانی امور طارق فضل چوہدری نے کہا ہے کہ وزیر اعلیٰ کا رویہ صوبے میں ایمرجنسی لگانے کا راستہ ہموار کررہا ہے، آئین کسی بھی وزیر اعلیٰ کو جو اختیار دیتا ہے سہیل آفریدی کو وہ حاصل ہیں، سہیل آفریدی کا رویہ نہ بدلا تو حالات کے ذمے دار وہ خود ہوں گے۔
اسلام آباد میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے طارق فضل چوہدری نے کہا کہ وزیراعظم کے دو بار رابطہ کرنے پر بھی محمود خان اچکزئی نے ملنے سے انکار کیا، اپوزیشن لیڈر اپنی ذمہ داریاں ادا نہیں کر رہے، وہ بضد ہیں کہ اس حوالے سے بھی بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کروائی جائے،ان کا کہنا تھا کہ چیف الیکشن کمشنر اور اراکین کی تقریوں کے آئینی معاملے میں اپوزیشن لیڈر محمود اچکزئی کو رکاوٹ قرار دے دیا۔
طارق فضل چوہدری نے کہا کہ پاکستان کی آئینی عہدوں کی تقرریاں سزا یافتہ شخص نہیں کرسکتا، وزیر اعلیٰ کےپی اب اعلان کررہے ہیں کہ وہ وفاق سے تعاون نہیں کریں گے۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ 12 اضلاع میں صوبائی حکومت کی عملداری نہیں، سہیل آفریدی کو قومی سلامتی سے جڑے معاملات سے آگاہ کر دیا گیا ہے، دہشتگردی کے خاتمے کے لیےصوبائی حکومت کو خود اقدامات کرنے چاہئیں، یہاں الٹی گنگا بہہ رہی ہے، وفاق اقدامات کرنا چاہتا ہے لیکن صوبائی حکومت انکاری ہے۔
طارق فضل نے یہ بھی کہا کہ حکومت بانی پی ٹی آئی کی صحت کے لیے ہر ممکن اقدامات کر رہی ہے، اسلام آباد میں کسی بھی صورت چڑھائی نہیں کرنے دی جائے گی۔

Leave feedback about this