جو فیصلے کر رہے، وہ خود بھی باہر ہوں گے اور جائیدادیں بھی، اگر کسی ڈی سی یا ڈی پی او کا تبادلہ کر دیا جائے تو ان کو کالیں آتی ہیں کہ چارج نہیں لینا ورنہ بھگتیں گے، اختیار کسی اور کا، برا بھلا ہمیں کہا جاتا ہے، رہنماء پی ٹی آئی کی گفتگو
رہنماء پی ٹی آئی جنید اکبر کا کہنا ہے کہ کوئی خیبرپختونخواہ کا چاچا ماما نہ بنے ہم یہاں رہتے ہیں ہمارے بچوں نے بھی یہاں رہنا ہے، جو فیصلے کر رہے، وہ خود بھی باہر ہوں گے اور جائیدادیں بھی۔ انہوں نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ میں وزیراعلیٰ سہیل آفریدی سے پوچھا کہ آپ ایپکس کمیٹی کی میٹنگ میں کیوں نہیں جاتے، انہوں نے بتایا کہ میں وہاں گیا تھا، وہاں بریفنگ دی گئی اور بریفنگ ختم ہونے کے بعد مجھے پریس ریلیز دکھائی گئی، تو میں نے کہا کہ میں نے تو ابھی بات بھی شروع نہیں کی تو آپ کس طرح پریس ریلیز نکالتے ہو؟
جنید اکبر نے کہا کہ کوئی خیبرپختونخواہ کا چاچا ماما نہ بنے ہم اس صوبے میں رہتے ہیں ہمارے بچوں نے یہاں رہنا ہے جو فیصلے کر رہے ہیں نہ انہوں نے خود یہاں رہنا ہے نہ ان کے بچوں نے یہاں رہنا ہے یہ خود بھی باہر ہوں گے اور ان کی جائیدادیں بھی باہر ہوں گی۔
انہوں نے کہا کہ سہیل افریدی کے کہنے پر اگر چیف سیکرٹری کسی ڈی سی یا ڈی پی او کا تبادلہ کر دے تو اس ڈی پی اور اور ڈی سی کو کالیں آنا شروع ہو جاتی ہیں کہ آپ نے چارج نہیں لینا ورنہ آپ بھگتیں گے یہاں اختیار کسی اور کے پاس ہے برا بھلا ہمیں کہا جاتا ہے، ہمیں کہا جاتا ہے کہ ہم تعاون نہیں کرتے بھئی ہم کیوں تعاون نہیں کریں گے؟ ہمارا صوبہ ہے ہم چاہتے یہاں امن ہو۔
جنید اکبر نے کہا کہ ہماری حکومت میں ہمارے منسٹر کو اٹھایا گیا جب اس کو اٹھایا گیا تو کسی سے پوچھ کر اٹھایا گیا تھا ؟ ہمارے ایم این ایز کے گھروں کے دروازے توڑے جاتے ہیں ہم آپ کو اپنے گھروں میں نہیں روک سکتے ہم نے تو آپ کو اجازت نہیں دی کہ آئیں ہمارے گھروں میں توڑ پھوڑ کریں اگر کوئی کرنا چاہتا ہے تو کس نے آپ کو روکا ہے۔

Leave feedback about this