جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کا کہنا ہے کہ حکومت نے مذاکرات کی کوئی گنجائش نہیں چھوڑی،کچھ ماننے اور منانے کی سوچ سے مذاکرات کیلئے بیٹھیں گے،پس پردہ قوتیں مذاکرات شریک نہ ہوں تو مذاکرات کی صورت میں کسی نتیجے پر پہنچا جا سکتا ہے۔
ذرائع کے مطابق اپوزیشن کے وفد نے مولانا فضل الرحمان سے ملاقات کی،اپوزیشن کے وفد میں علامہ راجا ناصر عباس، اسد قیصراوردیگر شامل تھے، ملاقات میں اپوزیشن کے وفد نے مولانا فضل الرحمان کو آل پارٹیز کانفرنس میں شرکت کی دعوت دی،ملاقات میں اپوزیشن وفد نے مولانا فضل الرحمان کو حکومت کے ساتھ مذاکرات کی پیش رفت سے بھی آگاہ کیا۔
مولانا فضل الرحمان نے اپوزیشن رہنماوں کے ہمراہ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ آج اپوزیشن جماعتوں سے مختصر ملاقات ہوئی،ملک میں سیاسی صورتحال عدم توازن کا شکار ہے، حکمرانوں کا حزب اختلاف کے خلاف رویہ ہمارے مدنظر ہے،حکومتی رویہ کے حوالے سے مختلف تجاویز سامنے آئی ہیں،جمہوری اور سیاسی لوگ مذاکرات پر یقین رکھتے ہیں،ہم مذاکرات کا حصہ نہیں تھے لیکن ہم اصولی طور پر مذاکرات کے عمل سے اختلاف نہیں کرتے۔
سربراہ جے یو آئی نے کہاکہ حکومت نے مذاکرات کی کوئی گنجائش نہیں چھوڑی،کچھ ماننے اور منانے کی سوچ سے مذاکرات کیلئے بیٹھیں گے،پس پردہ قوتیں مذاکرات شریک نہ ہوں تو مذاکرات کی صورت میں کسی نتیجے پر پہنچا جا سکتا ہے۔ان کاکہناتھا کہ مجھے آج آل پارٹیز کانفرنس کی دعوت دی گئی ہے،ہم نے اپوزیشن سے کہا کہ آپ بھی اس پر تفصیلی غور کریں ہم بھی اپنی جماعت سے مشاورت کریں گے،آل پارٹیز کانفرنس میں تمام جماعتوں کی مشاورت سے مشترکہ ایجنڈا سامنے آنا چاہیے۔
مولانا فضل الرحمان نے کہاکہ ملک میں کسی کی وفاداری مشکوک نہیں، ہم سب پاکستانی ہیں،ہم نے بھی لانگ مارچ کیےہیں، یہ سب کا جمہوری حق ہے، حکومت کو پی ٹی آئی کے لانگ مارچ میں رکاوٹ نہیں بننا چاہیے،جب سیاسی جماعتیں پر امن رہنے کی بات کریں تو پھر ہمیں ان کا اعتبار کرنا چاہیے۔

Leave feedback about this