حکومت اور اپوزیشن کے درمیان مذاکرات مذاکرات کامیاب ہو گئے جس کے بعد مشترکہ اعلامیہ تیار کرلیا گیا۔
سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق حکومت اور اپوزیشن کے درمیان ہونے والے مذاکرات کی میزبانی اور صدارت کر رہے ہیں، مسلم لیگ ن، پیپلز پارٹی اور اپوزیشن کے وفود مذاکرات میں حصہ لے رہے ہیں۔
ذرائع کا کہنا تھا کہحکومت اور اپوزیشن مذاکرات کے دوسرے دور کا گلے شکوؤں کے ساتھ آغاز ہوا، وفاقی وزیر امیر مقام نے سہیل آفریدی کے ٹویٹ کا معاملہ اٹھایا اور کہا کہ کہ ہم نے کل اپوزیشن سے آگے بڑھنے کےلیے لانگ مارچ منسوخ کرنےکی بات کی تھی، آج سہیل آفریدی نے لانگ مارچ کا ٹویٹ کردیا۔
اِسی طرح حکومتی وفد نے شکوہ کیاکہ سینیئر حکومتی اکابرین سے متعلق نازیبازبان بھی استعمال کی گئی، ایسےمیں ہم کیا سمجھیں کہ اپوزیشن وفد کتنا با اختیار ہے؟
ذرائع نے بتایاکہ اپوزیشن نے جواب میں کہا کہ آپ وزیردفاع خواجہ آصف کے ٹویٹ بارےکیا کہیں گے،کیا وہ درست ہے؟ اگر آگے بڑھنا ہے تو اعتماد بحال کرنا ہوگا۔
دوسری جانب حکومتی وفد کا مؤقف تھا کہ ہم کھلےدل سے آئےہیں اور مکمل با اختیار ہیں جبکہ پیپلزپارٹی چاہتی ہے کہ لانگ مارچ غیر مشروط طورپرختم کریں تاکہ مذاکرات آگےبڑھیں۔
مزید برآں ذرائع نے کہا کہ حکومت اور اپوزیشن کے درمیان مذاکرات میں مثبت پیش رفت کا امکان ہے اور لانگ مارچ ملتوی پرخصوصی کمیٹیوں کےذریعےبات چیت جاری رکھنےکی تجویزپرغور ہے۔
ذرائع کا مزید بتانا ہے کہ دونوں فریق قیادت سےمشاورت کے بعد اس حوالےسےفیصلہ کریں گے۔

Leave feedback about this