احتجاج اور مارچ کے پیش نظر تعینات ہونے والی سکیورٹی فورسز کی رہائش کے انتظامات کے سلسلے میں 24 تعلیمی اداروں کا کنٹرول سنبھال لیا ہے۔
سیاسی جماعتوں اور کسانوں کے احتجاج اور لانگ مارچ کے پیش نظر مختلف صوبوں سے سکیورٹی ڈیوٹی کے لیے آنے والے پولیس اہلکاروں کی رہائش کے لیے اسلام آباد کے 24 سرکاری تعلیمی ادارے کل (منگل) سے بند کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی)، جماعت اسلامی (جے آئی) اور کسان اتحاد نے اسلام آباد میں مختلف تاریخوں پر احتجاج کا اعلان کر رکھا ہے۔
ذرائع کے مطابق اسلام آباد کے سیکٹر جی-6/1، جی-6/2، ایف-6/4، ایف-7/2، جی-7/3، جی-8/1، جی-9/2، جی-9/3، جی-10/4، جی-13/2، آئی-9/4 اور آئی-10/2 سمیت مختلف سیکٹرز میں واقع اسکولز اور کالجز بند رہیں گے۔
ذرائع نے مزید بتایا کہ بری امام، ملپور، ترنول، سہالہ، پہاگ پنوال، ایچ-9 سیکٹر اور راول ڈیم کے علاقے سمیت دیہی اور مضافاتی علاقوں کے تعلیمی ادارے بھی بند رہیں گے، تاہم وفاقی دارالحکومت کے دیگر تعلیمی ادارے معمول کے مطابق کھلے رہیں گے۔
ذرائع کے مطابق اسلام آباد ضلعی انتظامیہ نے سکیورٹی فورسز کی رہائش کے انتظامات کے سلسلے میں 24 تعلیمی اداروں کا کنٹرول سنبھال لیا ہے۔
عارضی انتظامات کے تحت اسکولوں اور کالجز کے پرنسپلز اور غیر تدریسی عملہ معمول کے مطابق ڈیوٹی پر حاضر ہوگا جبکہ اساتذہ اور طلبہ کیمپس نہیں آئیں گے۔
یہ فیصلہ اسلام آباد اور راولپنڈی میں سیاسی مارچ اور احتجاج کے پیش نظر سخت سکیورٹی انتظامات کے تحت کیا گیا ہے۔
پولیس ذرائع کے مطابق اسلام آباد میں 8 ڈپٹی انسپکٹر جنرلز (ڈی آئی جیز) کی نگرانی میں 22 ہزار سے زائد سکیورٹی اہلکار تعینات کیے جانے کی توقع ہے۔
پولیس ذرائع کے مطابق خیبرپختونخوا اور پنجاب کو ملانے والے اہم راستے اٹک میں بھی تقریباً 30 ہزار اہلکار طلب کیے گئے ہیں۔
راولپنڈی پولیس نے سکیورٹی آپریشنز میں معاونت کے لیے مزید 9 ہزار اہلکاروں کی خدمات بھی طلب کی ہیں۔
اسلام آباد، راولپنڈی کے 30 داخلی راستے بند
واضح رہے کہ پی ٹی آئی نے اپنے بانی اور سابق وزیراعظم عمران خان کی رہائی کے مطالبے پر 27 ستمبر کو ملک گیر احتجاج اور اسلام آباد مارچ کا اعلان کر رکھا ہے جبکہ جماعت اسلامی نے پیٹرولیم لیوی کے خلاف مارچ جبکہ کسان اتحاد نے کسانوں کے لیے ریلیف کے مطالبے پر احتجاج کا اعلان کیا ہے۔
حکام نے جڑواں شہروں تک رسائی محدود کرنے کے لیے اہم مقامات پر شپنگ کنٹینرز رکھنا بھی شروع کردیے ہیں۔ ڈان اخبار کی رپورٹ کردہ سیکیورٹی پلان کے مطابق 30 داخلی راستے بند کیے جانے کی توقع ہے، جن میں راولپنڈی کے 11 راستے شامل ہیں۔
پنجاب کانسٹیبلری اور رائٹ مینجمنٹ پولیس سمیت پولیس کے اضافی دستے بھی پنجاب کے مختلف اضلاع سے اٹک میں تعیناتی کے لیے طلب کیے گئے ہیں۔ ان اضلاع میں شیخوپورہ، ڈیرہ غازی خان، ملتان اور فیصل آباد شامل ہیں۔
سٹی پولیس آفیسر حسن مشتاق سکھیرا کے جاری کردہ حکم کے تحت راولپنڈی میں پولیس اہلکاروں کی چھٹیاں یکم اکتوبر تک منسوخ کردی گئی ہیں، تاہم انتہائی ہنگامی صورتحال میں چھٹی کی اجازت ہوگی۔
اسلام آباد انتظامیہ نے امن و امان کی ڈیوٹی کے لیے بلائے گئے سینئر پولیس افسران اور دیگر اہلکاروں کے قیام کا بھی انتظام کیا ہے۔
انتظامیہ کے مطابق دارالحکومت کے 13 ہوٹلوں اور گیسٹ ہاؤسز کے 132 کمروں میں 362 افسران اور اہلکاروں کو ٹھہرایا جائے گا۔ 8 ڈی آئی جیز کو جی-6 کے میلوڈی میں واقع اسلام آباد ہوٹل جبکہ 10 ایس ایس پیز کو بلیو ایریا کے ایک ہوٹل میں ٹھہرایا جائے گا۔
40 ایس پیز، 58 ڈی ایس پیز اور 246 انسپکٹرز کو دیگر ہوٹلوں اور گیسٹ ہاؤسز میں رہائش دی جائے گی۔ دارالحکومت سے باہر سے آنے والے دیگر پولیس اور فرنٹیئر کانسٹیبلری اہلکاروں کو سرکاری عمارتوں، اسکولوں، کالجز، اسپورٹس کمپلیکس، شادی ہالز اور پولیس اسٹیشنز میں ٹھہرایا جا رہا ہے۔
سکیورٹی فورسز نے اسلام آباد اور راولپنڈی کے اہم داخلی راستوں پر بھی نفری بڑھا دی ہے جبکہ فیض آباد، چونگی نمبر 26، روات، چکری، اڈیالہ روڈ، پیرودھائی، بھارہ کہو اور 17 میل سمیت مختلف مقامات پر کنٹینرز پہنچا دیے گئے ہیں۔
محسن نقوی کا پی ٹی آئی کو انتباہ
وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے آج صبح ہی اپنی پریس کانرنس میں پی ٹی آئی کو 27 ستمبر کا مارچ کرنے سے خبردار کرتے ہوئے کہا کہ حکومت احتجاج اور عوامی سڑکوں پر نقل و حرکت سے متعلق اسلام آباد ہائی کورٹ کے حکم پر مکمل عمل درآمد کرے گی۔
پریس بریفنگ کے دوران محسن نقوی نے کہا کہ حکومت نے پی ٹی آئی کو واضح طور پر بتا دیا ہے کہ وہ ایسے ڈرامے کے ذریعے کچھ حاصل نہیں کرسکتی، اور پارٹی سے احتجاج منسوخ کرنے کا مطالبہ کیا۔
انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کو اسلام آباد میں داخل ہوکر طویل عرصے تک شہر بند رکھنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ ان کے مطابق وزیراعظم اور وزارت قانون کی مشاورت کے بعد حکومت دستیاب تمام قانونی راستے اختیار کرے گی۔
اسلام آباد ہائی کورٹ نے 14 ستمبر کو قرار دیا تھا کہ سیاسی جماعتوں اور ان کی قیادت کو اسلام آباد میں عوامی سڑکوں، شاہراہوں، انٹرچینجز، ٹول پلازوں یا سرکاری عمارتوں پر قبضہ کرنے کا قانونی حق حاصل نہیں۔

Leave feedback about this