اسلام آباد: پاکستان نے رواں مالی سال کے پہلے 7 ماہ (جولائی تا جنوری) کے دوران 5.17 ارب ڈالر کے غیر ملکی قرضوں کی صورت میں ڈالرز کی آمد کو یقینی بنایا ہے, ملک نے گزشتہ مالی سال 2025 کی اسی مدت کے دوران 4.584 ارب ڈالر کے غیر ملکی قرضے حاصل کیے تھے۔ اقتصادی امور ڈویژن کی جانب سے فراہم کردہ تفصیلات کے مطابق حکومت نے غیر ملکی قرضوں اور گرانٹس کے اعداد و شمار جاری کرنے میں تاخیر کو ترجیح دی، جس کی ممکنہ وجہ پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان ہونے والے جائزہ مذاکرات تھے۔
مذاکرات کے اختتام پر، اقتصادی امور ڈویژن نے سرکاری اعداد و شمار جاری کر دیے ہیں۔ ان اعداد و شمار کے مطابق، مالی سال 2026 کے جولائی تا جنوری کے عرصے میں غیر ملکی قرضوں کی فراہمی 5.17 ارب ڈالر رہی، جبکہ گزشتہ مالی سال 2025 کی اسی مدت میں یہ رقم 4.6 ارب ڈالر تھی۔
رواں مالی سال کے پہلے سات ماہ کے دوران چین سے حاصل کردہ گارینٹڈ قرضہ 269.42 ملین ڈالر رہا۔ رواں مالی سال کے پہلے سات ماہ کے دوران مجموعی دو طرفہ قرضوں کی فراہمی 931.88 ملین ڈالر رہی، جس میں سے سعودی عرب نے 708 ملین ڈالر فراہم کیے۔سعودی عرب نے رواں مالی سال کے پہلے سات ماہ کے دوران موخر ادائیگی پر تیل کی سہولت کی مد میں 700 ملین ڈالر فراہم کیے ہیں، جس کے تحت ہر ماہ 100 ملین ڈالر جاری کیے گئے۔
چین نے 72.28 ملین ڈالر، ڈنمارک نے 71.15 ملین ڈالر، فرانس نے 26.73 ملین ڈالر، جرمنی نے 5.45 ملین ڈالر، جاپان نے 15.53 ملین ڈالر، کوریا نے 9.49 ملین ڈالر، کویت نے 22.06 ملین ڈالر اور امریکہ نے محض 0.49 ملین ڈالر فراہم کیے ہیں۔

Leave feedback about this