لاہور: لاہور کے علاقے مزنگ میں 1947 سے بند تاریخی گوردوارہ چھٹی پاتشاہی کو تزئین و آرائش کے بعد سکھ برادری کے لیے کھول دیا گیا۔متروکہ وقف املاک بورڈ نے تاریخی عمارت کی بحالی کا کام مکمل کرنے کے بعد اسے مذہبی عبادات کے لیے فعال کیا ہے۔ گوردوارہ چھٹی پاتشاہی سری گورو ہرگوبند صاحب سے منسوب ہے۔سکھ روایات کے مطابق گورو ہرگوبند صاحب نے 1619 میں لاہور آمد کے دوران اس مقام کا دورہ کیا تھا۔ قیامِ پاکستان کے بعد سے بند یہ گردوارہ وقت گزرنے کے ساتھ خستہ حالی کا شکار ہوگیا تھا۔
گردوارہ چھٹی پاتشاہی ایسے دن بحال کیا گیا ہے جب دنیا بھر میں سکھ برادری بندی چھوڑ دیوس جبکہ ہندو کمیونٹی دیوالی منارہی ہے۔گوردوارے کی بحالی کے بعد افتتاحی تقریب منعقد ہوئی جس میں صوبائی وزیر برائے اقلیتی امور اور پاکستان سکھ گوردوارہ پربندھک کمیٹی کے سربراہ سردار رمیش سنگھ اروڑہ، سیکرٹری بورڈ ناصر مشتاق، ڈپٹی سیکرٹری سید فراز عباس اور سکھ مذہبی رہنماؤں نے شرکت کی۔
تقریب میں سابق پردھان سردار بشن سنگھ، گیانی بلونت سنگھ، پروفیسر ڈاکٹر ممپال سنگھ، ستونت کور اور دیگر شخصیات بھی موجود تھیں۔اس موقع پر سیکرٹری بورڈ ناصر مشتاق نے کہا کہ اقلیتوں کی عبادت گاہوں کی حفاظت اور تزئین و آرائش حکومت پاکستان کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔ گوردوارہ چھٹی پاتشاہی کی بحالی سکھ برادری کے مذہبی جذبات کے احترام اور تاریخی ورثے کو محفوظ بنانے کی عملی مثال ہے۔





