اتنی بری گورننس ہے اگر مریم نواز کا عثمان بزدار سے موازنہ کریں تو بزدار اچھا لگنا شروع ہوجائے گا ، آپ معیشت کو دیکھیں کہ اچھی ہوئی ہے یا نہیں، غربت بڑھنے میں زیادہ حصہ پنجاب کا ہے، سابق وزیر کی گفتگو
سابق وزیر فواد چودھری کا کہنا ہے کہ مریم نواز نے پنجاب میں گورننس کا بیڑہ غرق کردیا ہے، اتنی بری گورننس ہے اگر مریم نواز کا عثمان بزدار سے موازنہ کریں تو بزدار اچھا لگنا شروع ہوجائے گا۔
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آپ دیکھیں گے کہ معیشت اچھی ہوئی ہے یا نہیں، غربت 41فیصد پر چلی گئی ہے ، سب سے زیادہ حصہ اس میں پنجاب کا ہے، 23فیصد پنجاب کا حصہ ہے، غربت اس قدر نیچے کیوں گئی؟مریم نواز نے گورننس کا بیڑہ غرق کردیا ہے، آپ مریم نواز کا عثمان بزدار سے موازنہ کریں تو بزدار اچھا لگنا شروع ہوجائے گا ، اتنی بری گورننس ہے۔
فواد چودھری نے کہا کہ میں نے دو سال پہلے کہا تھا جب آپ نے گندم کی قیمت نہیں رکھی، ایک تو آپ گندم خرید نہیں رہے، اگر میں آپ سے گندم نہیں خرید رہا تو پھر میں گندم خیبر پختونخواہ میں فروخت کروں یا کہیں ، لیکن آپ خریدیں بھی نہیں اور پنجاب سے باہر بیچنے بھی نہ دیں، اس فیصلے سے کسان کی کمر توڑ دی گئی۔
اگر پنجاب حکومت گندم نہیں خرید رہی تو پھر پنجاب حکومت روٹی کی قیمت کیسے طے کرسکتی ہے؟ یہ تو نہیں ہوسکتا ۔
سابق وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے کہا کہ سوشل میڈیا پی ٹی آئی کے لیے ایک بڑی نعمت بھی ہے اور عذاب بھی بن چکا ہے، ان کا ایک گروپ پاکستان مخالف ایجنڈے اور علیحدگی پسندوں کے لیے کام کرتا ہے،پی ٹی آئی کے سوشل میڈیا پر تین سے چار مختلف گروپ سر گرم ہیں، ایک گروپ ان لوگوں کا ہے جن کے ساتھ زیادتی ہوئی اور وہ کسی نہ کسی طریقے سے ملک سے باہر چلے گئے جہاں وہ سوشل میڈیا پر اپنا غصہ نکالتے ہیں ، دوسرا گروپ ایسے افراد پر مشتمل ہے جنہوں نے یوٹیوب پر ایک اینٹی اسٹیبلشمنٹ، معیشت یا کاروباری ماحول بنا لیا ہے اور وہ اس سے فائدہ اٹھا رہے ہیں۔
فواد چوہدری نے کہا کہ سب سے زیادہ مسئلہ تیسرے گروپ کا ہے جو پاکستان مخالف ایجنڈے پر کام کرنے والی قوتوں اور علیحدگی پسندوں کے لیے سرگرم ہے، اس گروپ میں ایسے افراد بھی شامل ہیں جن کا پی ٹی آئی سے کوئی تعلق نہیں لیکن انہوں نے عمران خان کی تصاویر لگا کر اور پی ٹی آئی کے نام سے پروفائل بنا کر پاکستان، فوج اور شہدا ء کے خلاف مہمات شروع کر رکھی ہیں۔
فواد چوہدری نے کہا کہ سلمان اکرم راجہ پاناما کیس میں نواز شریف کے وکیل تھے اور ان کے خلاف پیش کی گئی دستاویزات کے معاملے میں بھی ان کا کردار رہا۔علامہ ناصر عباس، محمود خان اچکزئی اور اختر مینگل جیسے رہنمائوں کو بھی فیصلہ سازی میں اہم مقام دیا گیا حالانکہ ان میں سے بعض ماضی میں پی ٹی آئی اور اس کی حکومت کے خلاف تحریک عدم اعتماد کی سرگرمیوں میں پیش پیش رہے تھے، ان رہنمائوں نے پی ٹی آئی کی حکومت گرانے میں کردار ادا کیا لیکن اب پارٹی نے انہیں فیصلہ سازی کا اختیار دے دیا ہے، پی ٹی آئی کی موجودہ اعلی قیادت میں ایسے لوگ شامل ہیں جن کا جماعت کے ساتھ ماضی میں کوئی تعلق نہیں رہا۔
خیبرپختونخوا ہ میں گورنر راج کے نفاذ اور وزیراعلی سہیل آفریدی کے آپریشنز کی مخالفت سے متعلق فواد چوہدری نے کہا کہ گورنر راج نافذ کرنا حکومت کی بہت بڑی غلطی ہے اور اس کے نفاذ کو سہیل آفریدی کے اقدامات کی وجہ قرار نہیں دیا جا سکتا۔





