ٹرمپ کے 2024 کے ووٹرز نے 2026 میں ڈیموکریٹس کو ووٹ دے دیا، جنگ ختم کرنا، مہنگائی کم کرنا، امریکا کو ترجیح دینا اور اسرائیل سے تعلقات بدلنا اہم مطالبات تھے، نائب صدر کا تفصیلی بیان
امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے وسط مدتی انتخابات میں ری پبلکن پارٹی کی بھاری شکست کی بنیادی وجہ ایران کے خلاف جنگ کو قرار دیتے ہوئے اعتراف کیا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ان کے اپنے حامیوں کی ایک بڑی تعداد نے اس مرتبہ ڈیموکریٹک پارٹی کو ووٹ دیا۔ نائب صدر نے بدھ 4 نومبر کو سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری طویل بیان میں کہا کہ ری پبلکن پارٹی کے ووٹرز انتخابات میں حصہ لینے کیلئے گھروں سے نکلے ضرور، لیکن ان میں سے بہت سے افراد نے اپنی ہی جماعت کے امیدواروں کی حمایت نہیں کی۔
رائٹرز، ایسوسی ایٹڈ پریس اور دیگر امریکی ذرائع ابلاغ کے مطابق نائب صدر کا یہ غیرمعمولی بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب ڈیموکریٹس نے وسط مدتی انتخابات میں کانگریس کے دونوں ایوانوں، سینیٹ اور ایوان نمائندگان، کا کنٹرول حاصل کرلیا ہے۔
امریکی نائب صدر نے واضح الفاظ میں کہا کہ ری پبلکن پارٹی کی شکست کی اصل وجہ جنگ ہے اور تقریباً ہر شخص اس حقیقت سے واقف ہے۔
انہوں نے کہا کہ صدر ٹرمپ نے بھی گزشتہ رات تسلیم کیا تھا کہ جنگ انتخابی نتائج پر اثرانداز ہوئی۔ وینس کے مطابق اگر کوئی یہ سمجھتا ہے کہ ایران کے خلاف جنگ جاری رکھنا اس قدر ضروری تھا کہ اس کی قیمت سینیٹ کا کنٹرول کھونے کی صورت میں ادا کرنا بھی قابل قبول تھا، تو اسے کھل کر یہ مؤقف اختیار کرنا چاہیے۔ ان کے مطابق پارٹی کے مستقبل کے بارے میں سنجیدہ گفتگو کیلئے شکست کی اصل وجہ تسلیم کرنا ضروری ہے۔
جے ڈی وینس نے بتایا کہ انتخابی مہم کے دوران ری پبلکن پارٹی کے تجزیہ کار ووٹروں کی تعداد اور سیاسی رجحانات کا مسلسل جائزہ لے رہے تھے۔ بعض ریاستوں میں ری پبلکن ووٹرز کی شرکت معمول کے مطابق اور بعض میں توقعات سے بھی بہتر تھی، جس کے باعث پارٹی کے اندر امید موجود تھی کہ نتائج رائے عامہ کے جائزوں سے بہتر ہوسکتے ہیں۔
تاہم ایک انتخابی تجزیہ کار نے انہیں خبردار کیا تھا کہ 2024 میں ٹرمپ اور وینس کو ووٹ دینے والے بہت سے افراد حکومت سے ناراض ہیں اور اس مرتبہ ڈیموکریٹس کی حمایت کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ وینس کے مطابق یہی پیش گوئی درست ثابت ہوئی۔ انہوں نے فلوریڈا کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ وہاں ووٹروں کی مجموعی سیاسی ساخت ری پبلکن پارٹی کے حق میں تھی، لیکن اصل مسئلہ ووٹرز کا گھروں سے نہ نکلنا نہیں تھا بلکہ یہ تھا کہ گزشتہ صدارتی انتخابات میں ری پبلکن پارٹی کو ووٹ دینے والے بہت سے افراد نے اب مخالف جماعت کا انتخاب کیا۔
نائب صدر نے اپنے بیان میں ایک ایسے انتخابی تجزیہ کار کا حوالہ دیا جس نے ری پبلکن پارٹی کی بڑی شکست کی درست پیش گوئی کی تھی۔ اس تجزیہ کار نے 2024 میں ٹرمپ کو ووٹ دینے والے ایسے افراد سے پوچھا جو اب ڈیموکریٹس کی طرف منتقل ہورہے تھے کہ وہ کن اقدامات کی صورت میں دوبارہ ری پبلکن پارٹی کی حمایت کرسکتے ہیں۔
وینس کے مطابق ان کے چار نمایاں مطالبات یہ تھے: ایران کے خلاف جنگ ختم کی جائے؛ مہنگائی اور روزمرہ زندگی کے بڑھتے اخراجات پر توجہ دی جائے؛ امریکا کو اپنی پالیسیوں میں پہلی ترجیح دی جائے؛ اور اسرائیل کے ساتھ امریکا کے تعلقات میں تبدیلی لائی جائے۔ تاہم نائب صدر نے جس سروے کا حوالہ دیا، اس کے مکمل نتائج، نمونے کے حجم اور طریقہ کار کی تفصیلات اپنے بیان میں فراہم نہیں کیں۔
وینس نے اسرائیل کے ساتھ امریکی تعلقات میں تبدیلی کو اپنی ذاتی خارجہ پالیسی کے باضابطہ اعلان کے طور پر پیش نہیں کیا بلکہ ان ووٹروں کے مطالبات میں شامل کیا جو 2024 میں ٹرمپ کے حامی تھے لیکن 2026 میں ڈیموکریٹس کی طرف چلے گئے۔ اس کے باوجود یہ اہم ہے کہ امریکا کی موجودہ انتظامیہ کے نائب صدر نے تسلیم کیا ہے کہ اسرائیل سے تعلقات کے بارے میں عوامی ناراضی ری پبلکن پارٹی کیلئے انتخابی نقصان کا باعث بنی۔
ایران کے خلاف امریکا اور اسرائیل کی جنگ کے نتیجے میں توانائی کی قیمتوں اور خطے میں عدم استحکام نے امریکی داخلی سیاست پر بھی اثرات مرتب کیے ہیں۔





