Roze News

دوسرا نوجوان بھی دم توڑگیا، مسٹر پتلو کی مہندی میں بھگدڑ سے جاں بحق افراد کی تعداد 2 ہوگئی

دوسرا نوجوان بھی دم توڑگیا، مسٹر پتلو کی مہندی میں بھگدڑ سے جاں بحق افراد کی تعداد 2 ہوگئی

تازہ خبروں اور اہم اپڈیٹس کیلئے ہمارا وٹس ایپ چینل جوائن کریں۔

22 سالہ ریحان ارشد لاہور میں دورانِ علاج جاں بحق، پہلے 30 سالہ محمد عقیل جان کی بازی ہار گیا تھا، پولیس نے واقعے کا مقدمہ درج کرکے 6 افراد کو گرفتار کرلیا

سیالکوٹ میں معروف ٹک ٹاکر مسٹر پتلو کی مہندی کی تقریب کے دوران بھگدڑ سے جاں بحق ہونے والے افراد کی تعداد 2 ہوگئی ہے، واقعے میں شدید زخمی ہونے والا 22 سالہ نوجوان ریحان ارشد لاہور میں دورانِ علاج دم توڑ گیا، اس سے قبل 30 سالہ محمد عقیل کی ہلاکت کی تصدیق ہوئی تھی۔

تازہ رپورٹس کے مطابق ریحان ارشد سیالکوٹ کے علاقے گلوٹیاں موڑ کا رہائشی تھا اور مہندی کی تقریب کے دوران بھگدڑ میں شدید زخمی ہوگیا تھا، نوجوان کو تشویشناک حالت میں علاج کیلئے لاہور منتقل کیا گیا، تاہم وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گیا۔

تازہ رپورٹس میں تھانہ موترہ کے ایس ایچ او مبین احمد نے ریحان ارشد کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے، اس سے قبل بھگدڑ میں 30 سالہ محمد عقیل کے جاں بحق ہونے کی اطلاع سامنے آئی تھی، ریحان کی موت کے بعد واقعے میں جان کی بازی ہارنے والے افراد کی مجموعی تعداد 2 ہوگئی ہے، واقعے میں متعدد دیگر افراد بھی زخمی ہوئے تھے، تاہم زخمیوں کی حتمی تعداد اور ان کی تازہ طبی حالت سے متعلق مختلف رپورٹس میں فرق پایا جاتا ہے۔

سیالکوٹ میں معروف ٹک ٹاکر انصر جٹ المعروف مسٹر پتلو کی مہندی کی تقریب میں بڑی تعداد میں لوگ جمع ہوئے تھے، میڈیا رپورٹس کے مطابق تقریب میں گاڑیوں اور موٹرسائیکلوں سمیت مختلف انعامات کی قرعہ اندازی کا اعلان کیا گیا تھا، جس کے باعث بڑی تعداد میں شہری تقریب کے مقام پر پہنچ گئے۔

ابتدائی اطلاعات سے پتہ چلا کہ داخلی دروازے کھلنے کے بعد لوگوں نے ایک ساتھ اندر داخل ہونے کی کوشش کی، جس سے شدید دھکم پیل شروع ہوگئی، ہجوم کے دباؤ کے باعث کئی افراد زمین پر گر گئے اور متعدد زخمی ہوئے، واقعے کے بعد امدادی ٹیموں نے زخمیوں کو طبی امداد فراہم کی اور تشویشناک حالت والے افراد کو ہسپتال منتقل کیا گیا۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق پولیس نے مہندی کی تقریب میں بھگدڑ اور جانی نقصان کے واقعے پر مقدمہ درج کرکے 6 افراد کو گرفتار کرلیا، رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا کہ تقریب کے انعقاد اور اجازت نامے سے متعلق سوالات سامنے آئے ہیں اور پولیس اس بات کی تحقیقات کررہی ہے کہ ہجوم کو قابو میں رکھنے اور شرکا کی حفاظت کیلئے مناسب انتظامات کیے گئے تھے یا نہیں، پولیس کی تحقیقات میں یہ تعین کیا جانا باقی ہے کہ واقعے کی ذمہ داری کن افراد پر عائد ہوتی ہے اور حفاظتی انتظامات میں کیا خامیاں موجود تھیں۔

مسٹر پتلو کی مہندی کی تقریب میں غیرمعمولی ہجوم اور بھگدڑ کی ویڈیوز سوشل میڈیا پر بڑے پیمانے پر گردش کررہی ہیں، واقعے کے بعد شہریوں اور سوشل میڈیا صارفین نے تقریب کے انتظامات، انعامی قرعہ اندازی کے اعلان اور اتنے بڑے ہجوم کو سنبھالنے کیلئے کیے گئے اقدامات پر سوالات اٹھائے ہیں۔

ابتدائی طور پر ایک ہلاکت کی اطلاع سامنے آئی تھی، تاہم یکم نومبر کو ریحان ارشد کی موت کی تصدیق کے بعد جاں بحق افراد کی تعداد 2 ہوگئی ہے، پولیس واقعے کے مختلف پہلوؤں کی تحقیقات کررہی ہے، جبکہ مزید قانونی کارروائی کا انحصار تفتیش کے نتائج پر ہوگا۔

وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے ڈسکہ سیالکوٹ میں ٹک ٹاکر مسٹر پتلو کی مہندی کی تقریب کے دوران مچنے والی بھگدڑ اور دو شہریوں کی ہلاکت کے واقعے پر شدید غصے اور برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ بے لگام سوشل میڈیا معاشرے اور ریاست کے لیے زہرِ قاتل ثابت ہو رہا ہے اور اس کا فوری و سخت احتساب ہونا چاہیئے۔

سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر اپنے ایک بیان میں خواجہ محمد آصف نے واقعے کی پرزور مذمت کرتے ہوئے کہا کہ کل ڈسکہ میں ہونے والے واقعے کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے، جہاں مسٹر پتلو کے نام سے معروف ٹک ٹاکر نے اپنی شادی کی تقریب میں بھاری کیش، گاڑیوں اور موٹر سائیکلوں سمیت دیگر قیمتی انعامات کا اعلانیہ ڈرامہ رچا کر عوام کا جمِ غفیر اکٹھا کرلیا۔

انہوں نے ٹک ٹاکر پر سوالات اٹھاتے ہوئے لکھا کہ یہ تمام تر تماشہ اور ڈرامہ اس ٹک ٹاکر نے محض اپنی مزید کمائی اور ویوز حاصل کرنے کے لیے رچایا تھا، یہ انعامات دراصل اس ٹک ٹاکر کی کاروباری انویسٹمنٹ یعنی سرمایہ کاری تھی جب کہ اس کا مقصد سوشل میڈیا کے ذریعے اربوں روپے کمانا تھا، اس میں علاقے کی غریب عوام کی معاشی بدحالی اور غربت کا بے دردی سے مذاق اڑایا گیا، جس کے نتیجے میں خوفناک بھگدڑ مچی اور دو قیمتی انسانی جانیں ضائع ہو گئیں جبکہ درجنوں بے گناہ شہری زخمی ہو گئے۔

وفاقی وزیر نے انکشاف کیا کہ سانحے کا ذمہ دار ٹک ٹاکر اس وقت مفرور ہے اور اپنا سیاسی و مالی اثر و رسوخ استعمال کرکے قانون کو بے اثر بنانے اور گرفتاری سے بچنے کی کوشش کر رہا ہے، اگر بے لگام سوشل میڈیا پلیٹ فارمز اور ان کے کرداروں کو لگام نہ دی گئی تو یہ ملک کے سماجی تانے بانے کے لیے انتہائی خطرناک اور تباہ کن ثابت ہوگا، یہ ٹک ٹاکرز کروڑوں نہیں بلکہ اربوں روپے کما رہے ہیں لیکن کیا ملک کے مروجہ ٹیکس قوانین اور ایف بی آر ان کی اس بے تحاشہ کمائی کو ریگولیٹ کر رہے ہیں یا نہیں؟۔

سیالکوٹ میں مہندی کی تقریب کے دوران پیش آنے والے بھگدڑ کے واقعے اور قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع کے بعد معروف ٹک ٹاکر مسٹر پتلو کی ایک روتے ہوئے ویڈیو سامنے آئی ہے جس میں انہوں نے واقعے پر شدید دکھ اور بے بسی کا اظہار کیا، ان کا کہنا تھا کہ ہو سکتا ہے یہ میری آخری ویڈیو ہو، مجھے مار دیا جائے یا میں خودکشی کرلوں، بڑے بڑے لوگ جو میرے ساتھ رابطے میں تھے، مجھے استعمال کرتے تھے، اب مجھے اکیلا چھوڑ گئے ہیں، میں اس وقت ایک گاؤں میں اکیلا ہوں، بستر سے اٹھنے اور چلنے سے قاصر ہوں، اس لیے پولیس کے سامنے پیش نہیں ہو سکتا، مجھے کیس میں نامزد کر دیا گیا۔

سماجی رابطے کی مختلف ویب سائٹس پر وائرل ہونے والی اس ویڈیو میں ٹک ٹاکر مسٹر پتلو پھوٹ پھوٹ کر روتے ہوئے دکھائی دے رہے ہیں، ان کا کہنا تھا کہ میں ہمیشہ سے حکومتی پالیسیوں اور ریاست کا دفاع کرتا آیا ہوں لیکن ڈسکہ میں پیش آنے والے اس ناگہانی حادثے کو میرے اوپر ڈال دیا گیا ہے، اس سانحے میں میرا کوئی ذاتی قصور نہیں ہے اور نہ ہی میں نے کبھی ایسا خوفناک واقعہ سوچا تھا۔

ویڈیو کے دوران مسٹر پتلو نے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز اور فیلڈ مارشل عاصم منیر سمیت اعلیٰ عسکری و سیاسی قیادت سے اپیل کی کہ اس پورے حادثے کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کی جائیں، میں ایک انتہائی غریب پس منظر سے اٹھ کر اس مقام تک پہنچا ہوں، لیکن اس المناک واقعے کے بعد میرے تمام ساتھی اور بڑے لوگ اس کڑے وقت میں مجھے تنہا چھوڑ کر الگ ہو چکے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ تقریب میں آنے والے تمام لوگ میرے مہمان تھے اور میں نے اپنی خوشیاں اپنے غریب عوام کے ساتھ سانجھ کرنے کی کوشش کی تھی مگر حالات اس نہج پر پہنچ جائیں گے اس کا انہیں اندازہ نہیں تھا، اگر قانون یا انصاف کا تقاضا یہی ہے تو میں ہر قسم کی سزا بھگتنے یا مرنے کے لیے بھی تیار ہیں لیکن اتنی ہی التجا ہے کہ اس حادثے کو غلط رنگ نہ دیا جائے۔
یاد رہے کہ مستر پتلو کی مہندی کی تقریب میں قیمتی انعامات اور بھاری رقم کے اعلانات کے بعد ہزاروں افراد کا جمِ غفیر امڈ آیا تھا، جس کے نتیجے میں مچنے والی بھگدڑ سے 2 افراد جاں بحق اور درجنوں زخمی ہوئے، یہ واقعہ اس وقت پیش آیا تھا جب سیالکوٹ میں معروف ٹک ٹاکر انصر جٹ المعروف مسٹر پتلو کی مہندی کی تقریب میں بڑی تعداد میں لوگ جمع ہوئے کیونکہ تقریب میں گاڑیوں اور موٹرسائیکلوں سمیت مختلف انعامات کی قرعہ اندازی کا اعلان کیا گیا تھا، جس کے باعث بڑی تعداد میں شہری تقریب کے مقام پر پہنچ گئے۔