Roze News

بھارت میں غربت کی شرح میں میں تاریخی کمی، پاکستان میں 2018 کے بعد اضافہ

بھارت میں غربت کی شرح میں میں تاریخی کمی، پاکستان میں 2018 کے بعد اضافہ

تازہ خبروں اور اہم اپڈیٹس کیلئے ہمارا وٹس ایپ چینل جوائن کریں۔

بھارت میں انتہائی غربت کی شرح 12 سال کے دوران 27.1 فیصد سے کم ہوکر 2.6 فیصد رہ گئی، پاکستان میں قومی غربت کی شرح 22 سے بڑھ کر 29 فیصد ہوگئی، عالمی بینک نے روزگار اور معاشی بحرانوں کو اہم عوامل قرار دے دیا

عالمی بینک کی تازہ رپورٹ میں جنوبی ایشیا کے دو بڑے ممالک پاکستان اور بھارت میں غربت کی صورتحال سے متعلق اہم اعدادوشمار سامنے آئے ہیں، جن کے مطابق بھارت میں گزشتہ ایک دہائی کے دوران انتہائی غربت میں نمایاں کمی ہوئی، جبکہ پاکستان میں 2018 کے بعد غربت کی شرح میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔

عالمی بینک کی اکتوبر 2026 کی Poverty and Equity Brief رپورٹس کے مطابق بھارت میں 2011 سے 2023 کے دوران انتہائی غربت کی شرح 27.1 فیصد سے کم ہوکر 2.6 فیصد رہ گئی۔ دوسری جانب پاکستان میں قومی غربت کی شرح 2018-19 کے 22 فیصد سے بڑھ کر 2024-25 میں تقریباً 29 فیصد تک پہنچ گئی۔

بھارتی اخبار دی ٹریبیون اور این ڈی ٹی وی کے مطابق عالمی بینک نے بھارت میں غربت میں کمی کی رفتار کو دنیا میں تیز ترین پیش رفتوں میں سے ایک قرار دیا ہے۔

تاہم ماہرین کے مطابق دونوں ممالک کے ان اعدادوشمار کا براہ راست موازنہ کرتے وقت یہ بات مدنظر رکھنا ضروری ہے کہ بھارت کی شرح انتہائی غربت کے بین الاقوامی پیمانے پر مبنی ہے، جبکہ پاکستان کیلئے بیان کردہ شرح قومی غربت کی لکیر کے مطابق ہے۔

عالمی بینک کے مطابق بھارت میں 2011 کے دوران 27.1 فیصد آبادی انتہائی غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزار رہی تھی، تاہم 2023 تک یہ شرح کم ہوکر 2.6 فیصد رہ گئی۔

یہ اعدادوشمار روزانہ 3 امریکی ڈالر فی فرد کی بین الاقوامی غربت کی لکیر پر مبنی ہیں، جس کا حساب 2021 کی قوت خرید کے مطابق کیا گیا ہے۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ بھارت میں معاشی سرگرمیوں، گھریلو کھپت، روزگار کے مواقع اور سماجی تحفظ کے پروگراموں میں بہتری نے غربت کم کرنے میں کردار ادا کیا۔

خاص طور پر خواتین کی معاشی سرگرمیوں میں شرکت اور غذائی امداد سمیت مختلف سرکاری پروگراموں کو بھی غربت میں کمی کے عوامل میں شمار کیا گیا ہے۔

عالمی بینک کے مطابق بھارت نے مالی غربت کے ساتھ ساتھ تعلیم، صحت اور بنیادی سہولیات سے متعلق بعض غیرمالی اشاریوں میں بھی بہتری دکھائی ہے۔

عالمی بینک کی رپورٹ کے حوالے سے شائع ہونے والی خبروں کے مطابق 2011 سے 2023 کے دوران بھارت میں تقریباً 49 کروڑ 60 لاکھ افراد غربت کی ایک مقررہ حد سے اوپر آئے۔

رپورٹ میں کم متوسط آمدنی والے ممالک کیلئے روزانہ 4.20 امریکی ڈالر کی غربت کی لکیر کا بھی جائزہ لیا گیا ہے۔ اس پیمانے پر بھارت میں غربت کی شرح 2011 کے 57.7 فیصد سے کم ہوکر 2023 میں 16.1 فیصد رہ گئی۔

اس کا مطلب یہ ہے کہ اگرچہ انتہائی غربت کی شرح بہت کم ہوگئی ہے، لیکن روزانہ 4.20 ڈالر کے پیمانے پر اب بھی بھارت کی آبادی کا ایک قابل ذکر حصہ غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزار رہا تھا۔

عالمی بینک نے خبردار کیا ہے کہ معاشی ترقی کے باوجود بعض ریاستوں میں غربت اور روزگار کے مسائل برقرار ہیں۔ رپورٹ کے مطابق بھارت کے غریب افراد کی بڑی تعداد اترپردیش سے مغربی بنگال تک پھیلے ہوئے علاقوں میں رہتی ہے، جہاں روزگار کے بہتر مواقع پیدا کرنا ضروری ہے۔