چارسدہ کے تحصیل شبقدر کے علاقے گاؤں خواجہ وس میں شادی بیاہ اور تقریبات میں فائرنگ کے غیر ذمہ دارانہ عمل نے ایک اور معصوم زندگی کو خطرے میں ڈال دیا۔ اندھی گولی لگنے سے محض 45 دن کا شیرخوار بچہ شدید زخمی ہو گیا۔
واقعے کے فوراً بعد علاقے میں شدید خوف و ہراس اور غصے کی لہر دوڑ گئی۔ مقامی شہریوں نے حادثے پر گہرے دکھ، افسوس اور تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ شادیوں اور دیگر خوشیوں میں ہوائی فائرنگ کا یہ ہولناک کھیل عام شہریوں، بالخصوص بے گناہ بچوں کی زندگیوں کے لیے مسلسل سنگین عذاب بن چکا ہے۔علاقہ مکینوں کا کہنا تھا کہ ہوا میں چلائی گئی گولی جب اندھی بن کر نیچے آتی ہے تو وہ کسی بھی بے گناہ کی جان لے سکتی ہے یا اسے عمر بھر کا معذور بنا سکتی ہے۔
شہریوں نے شبقدر کی پولیس انتظامیہ، علاقائی مشران اور عوام الناس سے زوردار مطالبہ کیا ہے کہ ہوائی فائرنگ کی مکمل روک تھام کے لیے فوری و موثر اقدامات کیے جائیں اور اس سفاکانہ عمل میں ملوث افراد کے خلاف قانون کے مطابق بلاامتیاز کارروائی کی جائے۔
اہلِ علاقہ نے واضح کیا کہ محض زبانی جمع خرچ کے بجائے عملی اور سخت اقدامات وقت کی اہم ضرورت ہیں تاکہ آئندہ کسی معصوم کا خون اس طرح سڑکوں پر نہ بہے





