Roze News

اٹلی میں ہزاروں طلبہ اور مزدور سڑکوں پر نکل آئے، مہنگائی میں کمی اور تعلیمی بجٹ بڑھانے کا مطالبہ

اٹلی میں ہزاروں طلبہ اور مزدور سڑکوں پر نکل آئے، مہنگائی میں کمی اور تعلیمی بجٹ بڑھانے کا مطالبہ

تازہ خبروں اور اہم اپڈیٹس کیلئے ہمارا وٹس ایپ چینل جوائن کریں۔

شرکا نے اسکولوں اور جامعات کے لیے زیادہ فنڈز، سستے مکانات اور روزمرہ اخراجات میں کمی کا مطالبہ کیا

اٹلی کے مختلف شہروں میں ہزاروں طلبہ، مزدوروں اور دیگر شعبوں سے وابستہ افراد نے مہنگائی، تعلیمی اخراجات اور رہائش کے مسائل کے خلاف احتجاجی مظاہرے کیے۔ ملک گیر ہڑتال کے دوران ہونے والے بیشتر مظاہرے پُرامن رہے، جہاں شرکا نے اسکولوں اور جامعات کے لیے زیادہ فنڈز، سستے مکانات اور روزمرہ اخراجات میں کمی کا مطالبہ کیا۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق جمعے کو ہونے والے یہ مظاہرے حالیہ عرصے میں اٹلی میں احتجاجی سرگرمیوں کی سب سے بڑی لہر کا حصہ تھے۔ طلبہ نے مختلف شہروں میں اسکولوں پر قبضے اور عارضی خیمہ کیمپ قائم کرکے اپنے مطالبات حکام تک پہنچانے کی کوشش کی۔

اٹلی کی ٹریڈ یونین یو ایس بی کی جانب سے ملک گیر عام ہڑتال کی کال بھی دی گئی تھی، جس میں ٹرک ڈرائیوروں، ٹیکسی ڈرائیوروں اور کسانوں سمیت مختلف شعبوں کے کارکنوں نے شرکت کی۔ یہ طبقے حالیہ ہفتوں میں ایندھن کی بڑھتی ہوئی قیمتوں اور دفاعی اخراجات میں اضافے کے خلاف بھی احتجاج کرتے رہے ہیں۔

یو ایس بی یونین نے اے ایف پی کو بتایا کہ ملک بھر میں ہونے والے مظاہروں میں 10 لاکھ سے 15 لاکھ افراد نے شرکت کی، تاہم حکام کی جانب سے شرکا کی تعداد کے سرکاری اعدادوشمار جاری نہیں کیے گئے۔

روم میں احتجاج کرنے والی 16 سالہ طالبہ صوفیہ کاتالدی نے کہا کہ ان کے ہائی اسکول کی عمارت کی حالت محفوظ نہیں۔ ان کے مطابق اسکولوں میں گرتی ہوئی کھڑکیوں اور چوہوں جیسے مسائل موجود ہیں، جبکہ طلبہ صاف ستھری اور محفوظ تعلیمی عمارتوں کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

21 سالہ یونیورسٹی طالبہ بیٹریس چیلیلی نے کہا کہ طلبہ مہنگی فیسوں اور کرایوں کے باعث شدید مشکلات کا شکار ہیں۔ ان کے مطابق روم میں طلبہ کی رہائش کے لیے ایک کمرے کا ماہانہ کرایہ بھی 1,200 یورو تک پہنچ سکتا ہے، جس کا بوجھ والدین کو برداشت کرنا پڑتا ہے۔

روم میں مظاہرین کا جلوس مرکزی ریلوے اسٹیشن سے شروع ہوا اور کولوسیم سمیت اہم مقامات سے گزرتا ہوا وزارتِ معیشت کی عمارت کے قریب پہنچا۔ شرکا نے بینرز اور جھنڈے اٹھا رکھے تھے اور دفاعی اخراجات کے بجائے عوامی ضروریات پر سرمایہ کاری کا مطالبہ کیا۔

میلان میں بھی طلبہ اور کارکنوں نے احتجاج کیا۔ مظاہرین کے ایک بینر پر ’’اپنے مستقبل کو واپس حاصل کرو‘‘ کا نعرہ درج تھا۔ احتجاج میں شریک 25 سالہ نوجوان اسٹیفانو ڈی فینیس نے امید ظاہر کی کہ مختلف شعبوں کے یہ مظاہرے مستقبل میں مستقل تبدیلی کا سبب بنیں گے۔

ملک کے مختلف شہروں میں پولیس اہلکار حفاظتی انتظامات کے تحت تعینات رہے۔ تاہم بعض مقامات پر کشیدگی بھی پیدا ہوئی۔ تورین میں پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے لاٹھی چارج اور واٹر کینن کا استعمال کیا، جبکہ روم میں مظاہرے کے اختتام پر بعض نوجوانوں نے بوتلیں پھینکیں، کوڑے دان الٹائے اور ایک کو آگ لگا دی۔

یہ واقعات ایسے وقت میں ہوئے ہیں جب اٹلی میں اس سے قبل 17 اور 18 اکتوبر کو میلان میں نوجوانوں اور پولیس کے درمیان جھڑپیں ہوئی تھیں۔ ان واقعات کے بعد وزیراعظم جارجیا میلونی کی حکومت نے عوامی اجتماعات سے متعلق قوانین سخت کیے اور کم عمر افراد کو حراست میں لینے کے قواعد میں نرمی کی۔

اٹلی کی حکومت نے گزشتہ ہفتے ایندھن کی قیمتوں میں اضافے سے متاثرہ ٹرک ڈرائیوروں، کسانوں اور ماہی گیروں کے لیے 175.2 ملین یورو کے امدادی پیکیج کی منظوری دی تھی۔ اس کے علاوہ 2027 کے مجوزہ بجٹ میں نوجوانوں اور خاندانوں کے لیے بھی اقدامات زیرِ غور ہیں، جن میں 30 سال سے کم عمر کارکنوں کے لیے سالانہ 2,500 یورو بونس کی تجویز شامل ہے۔

وزیراعظم جارجیا میلونی نے کہا ہے کہ وہ ایسے اقدامات کے ذریعے نوجوانوں کے مسائل کا جواب دینا چاہتی ہیں جو یہ محسوس کرتے ہیں کہ ریاست ان کی پروا نہیں کرتی۔ تاہم انہوں نے واضح کیا کہ یہ سہولتیں توڑ پھوڑ کرنے والوں کے لیے نہیں ہیں۔