واردات کے بعد ملزم سرفراز گرفتاری سے بچنے کے لیے گوجرانوالہ سے فرار ہو کر کراچی پہنچ گیا تھا، بعد ازاں بلوچستان کی سرحدی پٹی میں روپوش ہونے کی کوشش کر رہا تھا؛ پولیس حکام
صوبہ پنجاب کے ضلع گوجرانوالہ میں ولیمے کی تقریب کے روز دلہن کو سرِعام فائرنگ کرکے قتل کرنے کے مقدمے کا مرکزی ملزم سرفراز مدو خلیل روڈ کے قریب سی سی ڈی کے ساتھ مبینہ مقابلے کے دوران اپنے ہی ساتھیوں کی فائرنگ کی زد میں آ کر ہلاک ہوگیا۔
اطلاعات کے مطابق سی سی ڈی کی ٹیم مدو خلیل روڈ پر موجود تھی کہ اس دوران دو موٹر سائیکلوں پر سوار 4 مسلح افراد کا سامنا اہلکاروں سے ہوگیا، اہلکاروں کو دیکھتے ہی مسلح ملزمان نے اندھا دھند فائرنگ شروع کردی، جس پر اہلکاروں نے بھی دفاع میں جوابی کارروائی کی، فائرنگ کے تبادلے میں ایک ملزم شدید زخمی ہو کر زمین پر گر پڑا لیکن اس کے تین دیگر ساتھی اندھیرے کا فائدہ اٹھاتے ہوئے موقع سے فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے۔
سی سی ڈی حکام کا کہنا ہے کہ زخمی ملزم کی شناخت سرفراز کے نام سے ہوئی، جو ہسپتال منتقل کیے جانے کے دوران راستے میں ہی زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گیا، ابتدائی طبی اور فارنزک رپورٹ سے معلوم ہوا ہے کہ ملزم سرفراز اپنے ہی فرار ہونے والے ساتھیوں کی فائرنگ سے ہلاک ہوا۔
بتایا گیا ہے کہ دلہن کے لرزہ خیز قتل کی واردات کے بعد ملزم سرفراز گرفتاری سے بچنے کے لیے گوجرانوالہ سے فرار ہو کر کراچی پہنچ گیا تھا، بعد ازاں بلوچستان کی سرحدی پٹی میں روپوش ہونے کی کوشش کر رہا تھا، سی سی ڈی کی خصوصی ٹیموں نے سندھ اور بلوچستان کے مختلف علاقوں میں اس کا مسلسل تعاقب کیا، جیسے ہی ملزم گوجرانوالہ میں واپسی کے لیے مدو خلیل روڈ پر پہنچا تو اہلکاروں نے اسے گھیر لیا۔
دوسری جانب سی سی ڈی نے ایک اور الگ کامیاب کارروائی کے دوران ملزم کے مرکزی سہولت کار اور ساتھی حمزہ کو گرفتار کر لیا ہے، اس مقدمے میں نامزد ایک اور اہم ملزمہ عروب کو پولیس پہلے ہی تحویل میں لے چکی ہے، یہ دل دہلا دینے والا واقعہ 24 اکتوبر 2026ء کو گوجرانوالہ کے علاقے سمن آباد چونگی اور گلشن کالونی کے قریب اس وقت پیش آیا تھا جب مقتولہ صبا کا اسی دن ولیمہ تھا۔
بتایا جارہا ہے کہ جب ان کی گاڑی سمن آباد چونگی کے قریب پہنچی تو موٹر سائیکل پر سوار ملزم سرفراز نے اپنے ساتھیوں کے ساتھ مل کر گاڑی کو زبردستی روکا، ملزم نے گاڑی کا دروازہ کھول کر دلہن صبا کو مخاطب کیا اور کسی اور سے شادی کرنے کا الزام عائد کرتے ہوئے اس پر فائرنگ کر دی، جس کے نتیجے میں صبا موقع پر ہی جان بحق ہو گئی، گاڑی کے ڈرائیور نے گاڑی سے کود کر اپنی جان بچائی۔
پولیس اور سی سی ڈی کی تحقیقات سے یہ بات سامنے آئی کہ مرکزی ملزم سرفراز مقتولہ صبا سے یکطرفہ محبت کرتا تھا اور اس نے صبا کے گھر والوں کو شادی کا پیغام بھی بھیجا تھا، تاہم اہل خانہ نے اس رشتے کو صاف انکار کر دیا تھا، رشتے کے انکار اور صبا کی کسی اور سے شادی طے پانے پر ملزم شدید رنجش اور عناد کا شکار ہو گیا، اس تمام کارروائی میں صبا کی سہیلی اور ملزمہ عروب نے بھی مبینہ طور پر ملزم سرفراز کی مدد کی تھی۔





