اسرائیل کے الیکشن میں عرب جماعتیں کنگ میکر بن گئیں اور ریکارڈ انیس نشستیں حاصل کرلیں جبکہ نیتن یاہو کا اقتدار آخری سانسیں لینے لگا۔
اسرائیل کے عام انتخابات میں وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو اور ان کے مدمقابل سابق فوجی سربراہ گادی آئزنکوٹ کے اپوزیشن اتحاد کے درمیان سخت مقابلہ جاری ہے، جبکہ عرب جماعتیں ریکارڈ 19 نشستیں حاصل کرکے حکومت سازی میں اہم فریق بن کر سامنے آگئیں۔
ابتدائی انتخابی نتائج میں نیتن یاہو کے دائیں بازو اور مذہبی جماعتوں کے اتحاد کو 53 نشستیں ملنے کا امکان ہے، جبکہ گادی آئزنکوٹ کے اپوزیشن اتحاد کو 48 نشستیں حاصل ہوئیں۔
اسرائیل کی 120 رکنی پارلیمنٹ میں حکومت بنانے کے لیے 61 نشستیں درکار ہیں، تاہم دونوں بڑے اتحاد سادہ اکثریت حاصل کرنے میں ناکام رہے۔
عرب جماعتوں رعام اور جوائنٹ لسٹ نے مجموعی طور پر 19 نشستیں حاصل کرکے انتخابی سیاست میں اپنی پوزیشن مضبوط کرلی ہے۔
عرب جماعتوں کے رہنما احمد طیبی نے کہا ہے کہ ان کے تعاون کے بغیر اسرائیل میں سیاسی تبدیلی ممکن نہیں۔ عرب جماعتوں نے نیتن یاہو مخالف اپوزیشن کو حکومت سازی کے لیے حمایت کی پیشکش بھی کی ہے۔
دوسری جانب نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اسرائیل ایسی حکومت کے تحت نہیں چلایا جاسکتا جو عرب اتحاد کے سہارے قائم ہو۔
اپوزیشن اتحاد نے بھی نیتن یاہو حکومت کے خاتمے کا دعویٰ کیا ہے، تاہم حکومت سازی کے لیے سیاسی جماعتوں کے درمیان مذاکرات اور اتحاد اہم ہوں گے۔
اسرائیلی انتخابات میں ووٹر ٹرن آؤٹ 77.7 فیصد ریکارڈ کیا گیا، جو 1999 کے بعد بلند ترین شرح بتائی گئی ہے۔ فوجیوں اور دیگر خصوصی ووٹرز کے بیلٹ سمیت باقی ووٹوں کی گنتی کے باعث حتمی نتائج کا انتظار ہے۔
ابتدائی نتائج کے مطابق اسرائیل میں حکومت سازی کا معاملہ پیچیدہ ہوگیا ہے اور عرب جماعتوں کی حمایت آئندہ حکومت کی تشکیل میں فیصلہ کن کردار ادا کرسکتی ہے





