انہوں نے اللہ اور رسول کے نام اور پاکستان کے آئین کو کمائی کا ذریعہ بنایا ہوا ہے، اُنہوں نے پی ڈی ایم حکومت میں کیا وارداتیں کی ہیں، مجھ سے ماضی نہ کھلوائیں، خود بھی تو کوئی شرم کریں کوئی حیا کریں؛ قومی اسمبلی خطاب
وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے جمعیت علمائے اسلام ف کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کے خلاف انتہائی سخت اور تند و تلخ زبان استعمال کرتے ہوئے تنقید کے تیر چلادیئے، ان کا کہنا تھا کہ مولانا فضل الرحمان نے اللہ اور رسول کے ناموں کے ساتھ ساتھ پاکستان کے آئین کو بھی اپنی سیاست اور کمائی کا ذریعہ بنایا ہوا ہے، ان کے تمام روپ محض مفاد پرستی اور سیاسی سودے بازی کے بہانے ہیں۔
تفصیلات کے مطابق قومی اسمبلی اجلاس میں اظہارِ خیال کرتے ہوئے وزیر دفاع نے مولانا فضل الرحمان کی جانب سے دیئے جانے والے طعنوں کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ جو لوگ دوسروں کو شرم و حیا کا درس دیتے ہیں، انہیں اپنے گریبان میں بھی جھانکنا چاہیے، مولانا نے مشرف دور میں نورا کشتی کے ذریعے اپوزیشن لیڈر کا منصب حاصل کیا اور ساتھ ہی خیبرپختونخواہ میں طویل عرصے تک حکومت کے مزے بھی لوٹے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ مولانا فضل الرحمان دس سال تک کشمیر کمیٹی کے چیئرمین رہے، لیکن سوال یہ ہے کہ انہوں نے کشمیر کاز کے لیے سوائے مراعات اور پروٹوکول حاصل کرنے کے کیا خدمت کی ہے؟ جتنے اعزازات اور عہدے انہیں دیئے گئے، اب یہ احساس ہوتا ہے کہ وہ سب فیصلے غلط تھے، پی ڈی ایم کی دورِ حکومت میں بھی مولانا نے کیا کچھ گھپلے کیے ہیں، اگر میرا منہ کھلوا بیٹھے تو سب کے سامنے حقائق آ جائیں گے۔
وزیر دفاع نے دوٹوک انداز میں کہا کہ مولانا اپنا ماضی مکمل طور پر بھلا کر سیاسی مخالفین پر تنقید کے تیر برساتے ہیں، لیکن کم از کم مجھ میں اتنی اخلاقی جرأت ضرور ہے کہ جب میں پارلیمنٹ میں بولتا ہوں تو مجھے اپنا ماضی صاف نظر آتا ہے اور اس بات کا خیال رہتا ہے کہ کہیں مجھ پر بھی ماضی کے حوالے سے انگلیاں نہ اٹھائی جائیں۔
اس موقع پر خواجہ آصف نے اس بات کا بھی دفاع کیا کہ جب میں خود کسی موقع پر فوج یا ہائبرڈ سسٹم کے حق میں بات کرتا ہوں تو میری پرانی تقاریر کا حوالہ دے کر مجھے طعنے دیئے جاتے ہیں حالانکہ میرا ہر مؤقف اور تقریر اپنے وقت کے مخصوص پس منظر اور سیاسی تناظر کے مطابق درست ہوتی ہے، سیاست میں منافقت کی روش کو اب مزید برداشت نہیں کیا جائے گا اور وہ ہر ناقد کو اس کے ماضی کے آئینے میں جواب دینے کا پورا حق رکھتے ہیں۔





