پاکستان میں انٹرنیٹ صارفین کو 2 نومبر 2026 تک مصروف اوقات میں انٹرنیٹ کی رفتار سست ہونے کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن کمپنی لمیٹڈ یعنی پی ٹی سی ایل نے خبردار کیا ہے کہ بین الاقوامی زیرِ سمندر کیبل اے اے ای ون پر ہنگامی مرمتی کام جاری ہے، جس کی وجہ سے سروس کے معیار میں کمی آ سکتی ہے۔ یہ مرمتی کام 27 اکتوبر کو کیبل کے اس حصے پر شروع ہوا جو اٹلی اور فرانس کے درمیان واقع ہے۔
کمپنی کے مطابق کام جاری رہنے تک صارفین کو مصروف اوقات میں سروس میں معمولی تنزلی محسوس ہو سکتی ہے۔ پی ٹی سی ایل نے صارفین سے اس دوران صبر اور تعاون کی درخواست کرتے ہوئے ان کا شکریہ بھی ادا کیا ہے۔ چونکہ متاثرہ حصہ کیبل کے یورپی سرے پر ہے، اس لیے سب سے زیادہ اثر ان ویب سائٹس اور آن لائن سروسز پر پڑنے کا امکان ہے جن کے سرور یورپ میں موجود ہیں۔
یہ سست روی خاص طور پر شام کے ان اوقات میں زیادہ نمایاں ہو سکتی ہے جب ملک بھر میں انٹرنیٹ کا استعمال عروج پر ہوتا ہے
ایشیا افریقہ یورپ ون، جسے مختصراً اے اے ای ون کہا جاتا ہے، ان اہم راستوں میں سے ایک ہے جن کے ذریعے پاکستان کا بین الاقوامی انٹرنیٹ ٹریفک بیرونِ ملک جاتا اور آتا ہے۔ تقریباً 25 ہزار کلومیٹر طویل یہ نظام جنوب مشرقی ایشیا کو مصر کے راستے یورپ سے جوڑتا ہے، اور پاکستان میں یہ کراچی کے ساحل پر اترتی ہے۔
زیرِ سمندر کیبل دراصل فائبر آپٹک تاروں کا ایک نظام ہوتا ہے جو سمندر کی تہہ میں بچھایا جاتا ہے اور مختلف ممالک کے درمیان ڈیٹا منتقل کرتا ہے۔ جب کسی کیبل کا کوئی حصہ مرمت یا خرابی کی وجہ سے بند ہو جائے تو اس کا ٹریفک دوسرے راستوں پر منتقل کرنا پڑتا ہے یا باقی ماندہ گنجائش میں سمیٹنا پڑتا ہے، جس سے رفتار متاثر ہوتی ہے۔
پی ٹی سی ایل نے اس کیبل پر پاکستان میں اپنے آپریشنز 2017 میں شروع کیے تھے۔
یورپ میں اس کیبل کے لینڈنگ پوائنٹس یونان، اٹلی اور فرانس میں ہیں، اور اس وقت مرمت انہی میں سے اٹلی اور فرانس کے درمیان والے حصے پر ہو رہی ہے۔
کمپنی نے یہ واضح نہیں کیا کہ رفتار میں کتنی کمی متوقع ہے یا یہ اثر تمام انٹرنیٹ فراہم کنندگان پر پڑے گا یا صرف چند پر۔ تاہم عمومی طور پر کیبل کے مسائل میں سب سے پہلے وہ کام متاثر ہوتے ہیں جن میں مسلسل اور زیادہ ڈیٹا درکار ہوتا ہے، جیسے ویڈیو کالز، آن لائن میٹنگز، ویڈیو اسٹریمنگ اور بڑی فائلوں کی ڈاؤن لوڈنگ۔
یورپ میں موجود سرورز سے چلنے والی ویب سائٹس اور کاروباری ٹولز کے صفحات معمول سے آہستہ کھل سکتے ہیں۔ البتہ یہ واضح رہے کہ یہ ملک گیر انٹرنیٹ بندش نہیں بلکہ کارکردگی میں عارضی کمی کا معاملہ ہے، اور اس کا اثر نیٹ ورک پر ٹریفک اور استعمال کی جانے والی سروس کے لحاظ سے مختلف ہو سکتا ہے۔





