Roze News

’گنتی کی تو ایک بچہ کم تھا!‘ 58 بچوں کے والد کی دلچسپ کہانی

’گنتی کی تو ایک بچہ کم تھا!‘ 58 بچوں کے والد کی دلچسپ کہانی

تازہ خبروں اور اہم اپڈیٹس کیلئے ہمارا وٹس ایپ چینل جوائن کریں۔

والد کا کہنا ہے کہ وہ ہر رات سونے سے پہلے اپنے بچوں کی گنتی ضرور کرتے ہیں تاکہ وہ مطمئن ہو سکیں کہ سب گھر میں موجود ہیں۔

افغانستان میں بڑے خاندان ہونا کوئی غیر معمولی بات نہیں، لیکن صوبہ ارزگان کے رہائشی 57 سالہ محمد صادق کا خاندان اس وقت توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے۔ محمد صادق کی چار بیویوں سے ان کے 58 بچے ہیں، جن میں سب سے چھوٹا چند ہفتے قبل ہی پیدا ہوا ہے۔ اتنے بڑے خاندان کی ضروریات پوری کرنا ان کے لیے روزانہ کا ایک بڑا امتحان ہے، جہاں بچوں کی ہنسی خوشی کے ساتھ غربت اور بنیادی سہولیات کی کمی بھی زندگی کا حصہ ہے۔

 اتنے طویل اور بڑے خاندان کی کفالت کرنا محمد صادق کے لیے ایک انتہائی مشکل چیلنج بن چکا ہے۔ وہ بتاتے ہیں کہ بعض اوقات ان کو اپنے بچوں کے نام یاد نہیں رہتے، وہ زیادہ تر بچوں کو محض ’بیٹا‘ کہہ کر ہی پکارتے ہیں۔

محمد صادق کا معمول ہے کہ وہ ہر رات سونے سے پہلے اپنے بچوں کی گنتی ضرور کرتے ہیں تاکہ وہ مطمئن ہو سکیں کہ سب گھر میں موجود ہیں۔ ایک مرتبہ ایسا ہی واقعہ پیش آیا جب وہ رات کو دسترخوان کے گرد بیٹھے بچوں کی گنتی کر رہے تھے تو ایک بچہ کم تھا ان کا کہنا ہے کہ انہیں یہ تک علم نہیں تھا کہ وہ غیر حاضر بچہ لڑکا ہے یا لڑکی۔ بعد میں پوچھنے پر معلوم ہوا کہ اس کی والدہ نے اس بچے کو نانی کے گھر بھیج دیا تھا۔

ایسا ہی ایک دلچسپ واقعہ بھی بتاتے ہوئے انہوں نے کہا کہ میری ایک بیٹی کے نکاح پڑھانے کے لیے جب مولوی نے مجھ سے میری بیٹی کا نام پوچھا تو میں کچھ دیر سوچتا رہا اور پھر ایک نام بتایا جس پر نکاح خواں نے ہنستے ہوئے کہا کہ دوبارہ جاکر نام معلوم کریں کہیں غلط نام نہ بتادیا ہو۔ اور ایسا ہی ہوا کہ میں نے دوسری بیٹی کا نام بتادیا تھا۔

خوشی کے ان لمحات کے برعکس اس خاندان کو روزانہ کی بنیاد پر انتہائی سخت معاشی مشکلات کا سامنا ہے۔ غربت اس حد تک ہے کہ اکثر بچوں کو رات بھوکا سونا پڑتا ہے اور پورے خاندان کے لیے دن میں صرف دو وقت، صبح و شام، ہی کھانا تیار کیا جاتا ہے۔

گھر میں ایک ہی پتلے کمبل کو سردیوں میں چھ یا سات افراد مل کر اوڑھتے ہیں جبکہ سونے کے لیے صرف سادہ گدوں کے سوا کوئی اور سہولت میسرنہیں۔ گھر کے کمروں میں کھڑکیاں یا باقاعدہ دروازے موجود نہیں ہیں بلکہ داخلے دروازوں کو صرف باریک پردوں سے ڈھانپا گیا ہے۔

خاندان کے لیے دو خواتین کھانا تیار کرنے کی ذمہ داری نبھاتی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ باقائدہ نہانے، کپڑے دھونے اور برتن صاف کرنے کے لیے الگ سے کوئی جگہیں نہیں ہیں بلکہ ایک ہی جگہ یہ سب کام انجام دیے جاتے ہیں۔

اس خاندان کے لیے صرف محمد صادق ہی نہیں بلکہ ان کے کئی چھوٹے بچے بھی محنت مزدوری کرتے ہیں اور کاغذ یا پلاسٹک جیسی قابلِ استعمال اشیا جمع کرتے ہیں تاکہ انہیں بطور ایندھن استعمال کیا جا سکے یا بیچ کر گھر کے اخراجات میں ہاتھ بٹایا جا سکے۔

زندگی کا ایک انتہائی تکلیف دہ پہلو یہ بھی ہے کہ ان برسوں کے دوران 14 بچے فوت ہو چکے ہیں۔ طبی ماہرین کے مطابق کم عمری کی شادی اور مسلسل حمل ماں اور بچوں دونوں کی صحت کے لیے انتہائی خطرناک ہوتے ہیں اور زچگی کے دوران پیچیدگیوں کا خدشہ بڑھ جاتا ہے۔ ان تمام کٹھن حالات اور محدود آمدنی کے باوجود محمد صادق کی زندگی کی صرف دو ہی بڑی آرزوئیں ہیں، پہلی یہ کہ ان کے بچے دین و دنیا کا علم حاصل کریں اور دوسری یہ کہ انہیں کبھی بھوکا نہ سونا پڑے۔