کیف: یوکرینی صدر وولودیمیر زیلنسکی نے کہا ہے کہ روس کی جانب سے کیف اور دیگر شہروں میں فضائی حملوں کی نئی حکمت عملی کے جواب میں یوکرین روسی آئل ریفائنریوں کو نشانہ بنانے کا عمل مزید تیز کرے گا تاہم شہری آبادی اور شہری تنصیبات کو نشانہ نہیں بنایا جائے گا۔
صدر زیلنسکی کے مطابق یوکرینی انٹیلی جنس کو ایسی دستاویزات ملی ہیں جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ روسی صدر پیوٹن نے موسم سرما سے قبل انفراسٹرکچر، لاجسٹکس، سڑکوں، سکولوں اور ہسپتالوں سمیت وسیع پیمانے پر اہداف پر حملوں کی نئی پالیسی کی منظوری دی ہے جس کا مقصد لوگوں کو کیف اور دیگر شہروں سے نقل مکانی پر مجبور کرنا ہے۔
روسی حملوں کے جواب میں یوکرین توانائی کے شعبے، بالخصوص ان آئل ریفائنریوں کو نشانہ بنائے گا جو روسی جنگی اخراجات کیلئے آمدن فراہم کرتی ہیں، یوکرین کی جوابی کارروائی کے دوران ڈونباس میں 140 مربع کلومیٹر علاقہ واپس لیا جا چکا ہے۔
روس کے پاس موسم سرما کے حملوں کیلئے سیکڑوں بیلسٹک میزائل موجود ہیں، یوکرین کو نئے جیٹ سے چلنے والے شاہد ڈرونز کے خلاف دفاع میں مشکلات کا سامنا ہے۔انہوں نے مزید بتایا کہ یوکرین اپنے ایف-16 اور مگ طیاروں سے تقریباً 60 فیصد ایسے ڈرونز مار گراتا ہے تاہم گولہ بارود کی قلت پیدا ہو رہی ہے اور نئے سستے انٹر سیپٹر ڈرونز اور میزائل تیار کیے جا رہے ہیں۔

Leave feedback about this