افغانستان واپس جانے والے کئی مہاجر خاندان اپنے بچوں کو پولیو کے حفاظتی قطرے پلانے سے انکار کر رہے ہیں، جس کے باعث ملک بھر میں انسداد پولیو مہم کو نئی مشکلات کا سامنا ہے۔
محکمہ صحت کے ذرائع کے مطابق، افغانستان واپس جانے والے مہاجرین کی بڑھتی ہوئی تعداد کے ساتھ پولیو کے حفاظتی اقدامات متاثر ہونے لگے ہیں۔ پشاور میں حالیہ انسداد پولیو مہم کے دوران متعدد بچوں کو قطرے نہیں دیے جا سکے، جس کی مکمل تفصیلات ضلعی حکام سے طلب کر لی گئی ہیں۔
حکام نے کہا کہ مقررہ ہدف کے باوجود حفاظتی قطرے نہ لینے والے بچوں اور ان کے والدین کا ڈیٹا مرتب کیا جا رہا ہے تاکہ آئندہ حکمت عملی کے تحت دوبارہ رسائی ممکن بنائی جا سکے۔
ذرائع نے مزید بتایا کہ کچھ والدین نے اپنے بچوں کو ویکسین پلانے سے صاف انکار کر دیا ہے، جبکہ دیگر والدین کا موقف ہے کہ انہیں اپنے بچوں کے لیے ویکسی نیشن کی ضرورت محسوس نہیں ہوتی۔
محکمہ صحت نے ویکسی نیشن ٹیموں کو ہدایت کی ہے کہ مہاجرین کی نقل و حرکت کے دوران بھی ویکسی نیشن کے عمل کو ہر ممکن حد تک یقینی بنایا جائے تاکہ بچوں کو پولیو سے محفوظ رکھا جا سکے۔
واپسی کے عمل میں تیزی اور مہاجرین کی بڑھتی ہوئی تعداد کے باعث، پولیو کے حفاظتی اقدامات کو برقرار رکھنا ایک بڑا چیلنج بن گیا ہے، جس کے لیے فوری اور مربوط حکمت عملی کی ضرورت ہے۔

Leave feedback about this