اسلام آباد:چیئر مین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ سندھ حکومت ہر شعبے میں بہتری کیلیے اقدامات کررہی ہے، ایک خاص مقصد کے تحت تنقید کی جاتی ہے کہ پیپلز پارٹی نے کچھ نہیں کیا، اختیارات اسلام آباد کو دیے جائیں لیکن جو سڑکیں وفاق کو بنانا ہیں وہ سندھ حکومت نہیں بناسکتی۔گزشتہ روز ایوان صدر میں سفیروں،کاروباری شخصیات اور میڈیا کے نمائندوں کو’’سندھ کی تبدیلی کی کہانی‘‘ پر بریفنگ دیتے ہوئے بلاول بھٹوزرداری نے 2008 ء سے 2025ء تک سندھ میں ہونیوالی صحت، تعلیم، موسمیاتی تبدیلی و پانی، امن و امان، سماجی تحفظ، معیشت، توانائی اور نقل و حرکت سمیت مختلف شعبوں میں ہونیوالی کامیابیوں کا تفصیل سے ذکر کیا۔
پیپلز پارٹی نے صوبے کو درپیش چیلنجز سے نمٹنے کیلیے بہترین حکمت عملی اپنائی ہے۔بلاول بھٹوزرداری نے کہا سندھ کے مواصلاتی انفرا اسٹرکچر کو تنقید کا نشانہ بنایا جاتا ہے سندھ حکومت نے 50ہزار کلو میٹر سڑکیں بنائی ہیں۔پہلی بار صوبے میں الیکٹرک بسیں لائے ہیں، خواتین کے لیے پنک بس سروس متعارف کروائی ہے۔ پیپلزپارٹی پرتنقید کرنے والی قوتوں کو بہترین جواب تھرپارکر ہے۔ 2026ء کا تھرپارکر آپ کے سامنے ہے۔
کوئلہ یہاں کے عوام کا اثاثہ ہے،تھرپارکر کے پاس اتنا کوئلہ ہے جتنا سعودی عرب کے پاس تیل ہے مگریہ وسائل استعمال کرنے نہیں دیئے گئے،تھرپارکر کے کوئلے کی وجہ سے یہاں سماجی انقلاب دیکھا ہے، حکومت کی سرمایہ کاری کی وجہ سے پورے تھرپارکر میں صحت کے اداروں کا جال بچھایا گیا ہے۔پیپلز پارٹی کی حکومت نے ثابت کیا ہے کہ وہ عوام دوست ہے،پیپلز پارٹی تھرپارکر کے عوام سے محبت کرتی ہے، تھرپارکر کی ترقی سندھ کی ترقی کے لیے ضروری ہے اور یہ پیپلز پارٹی کی ترجیح ہے۔
صحت کے شعبہ کا ذکرکرتے ہوئے بلاول نے کہا صحت کے بجٹ کو 2.9 فیصد سے بڑھا کر 10 فیصد کر دیا ہے۔جناح ہسپتال کو عالمی معیار کا ہسپتال بنایا ہے، جے پی ایم سی میں اب تین سائبر نائف سہولیات موجود ہیں جہاں مفت علاج فراہم کیا جا رہا ہے۔
اب تک 178 شہروں اور 24 ممالک کے مریضوں کا علاج کیا جا چکا ہے، جن میں سندھ کے مریض 50 فیصد سے بھی کم ہیں، جبکہ 31 فیصد پنجاب، 11 فیصد خیبر پختونخوا، 7 فیصد بلوچستان اور 5 فیصد دیگر ممالک سے تعلق رکھتے ہیں۔سندھ میں کینسر کا مہنگا ترین علاج مفت فراہم کیا جارہا ہے،این آئی سی وی ڈی طرز کے 11ہسپتال قائم کئے ہیں۔ نیشنل انسٹیٹیوٹ آف چائلڈ ہیلتھ (NICH) میں بستروں کی تعداد 3,400 سے بڑھا کر 5,750 کر دی گئی ہے، جو دنیا میں کسی ایک اسپتال میں بستروں کی سب سے بڑی تعداد ہے۔
ایس آئی یو ٹی نے اب تک 7,700 گردوں کی پیوندکاری کی ہے اور 45 لاکھ مریضوں کا مفت علاج کیا ہے، جس سے مجموعی طور پر 3 کروڑ 50 لاکھ افراد مستفید ہوئے۔ غلام محمد مہر انسٹیٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (GIMS) میں 2016 سے جگر کی پیوندکاری کی جا رہی ہے، اور اب تک 1,362 پیوندکاریاں کی جا چکی ہیں۔ان مریضوں میں سے صرف 47 فیصد سندھ سے، 35 فیصد پنجاب، 15 فیصد بلوچستان اور 4 فیصد خیبر پختونخوا سے تعلق رکھتے تھے۔

Leave feedback about this