واشنگٹن: امریکا میں وسط مدتی انتخابات کے بعد دونوں بڑی سیاسی جماعتوں نے 2028 کے صدارتی انتخابات کی تیاریوں پر توجہ مرکوز کرلی ہے۔ڈیموکریٹک پارٹی میں صدارتی امیدوار کے لئے ممکنہ طور پر کئی درجن رہنماؤں کے میدان میں آنے کا امکان ہے تاہم تاحال کوئی امیدوار واضح برتری حاصل نہیں کر سکا۔سابق نائب صدر کملا ہیرس، کیلیفورنیا کے گورنر گیون نیوزم، کینٹکی کے گورنر اینڈی بیشیئر، سابق وزیر ٹرانسپورٹ پیٹ بٹجج اور رکن کانگریس الیگزینڈریا اوکاسیو کورٹیز ممکنہ امیدواروں میں شامل ہیں۔
ڈیموکریٹک پارٹی کو اس بات پر بھی اختلافات کا سامنا ہے کہ آئندہ انتخابات میں کامیابی کے لئے معتدل سیاسی مؤقف اختیار کیا جائے یا ترقی پسند پالیسیوں کو مزید آگے بڑھایا جائے۔ریپبلکن پارٹی میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ممکنہ جانشینوں کے طور پر نائب صدر جے ڈی وینس اور وزیر خارجہ مارکو روبیو کے نام نمایاں ہیں، تاہم ریپبلکن رہنماؤں کے لیے ٹرمپ کی مقبول سیاسی تحریک ایم اے جی اے کی حمایت برقرار رکھنے اور وسیع تر ووٹرز کو اپنی جانب متوجہ کرنے کا چیلنج بھی موجود ہے۔
جے ڈی وینس نے صدارتی انتخاب میں حصہ لینے کے امکان کو رد نہیں کیا، تاہم خاندانی مصروفیات کو ممکنہ رکاوٹ قرار دیا ہے جبکہ مارکو روبیو کا کہنا ہے کہ فی الحال ان کا صدارتی انتخاب لڑنے کا کوئی ارادہ نہیں۔فلوریڈا کے گورنر رون ڈی سینٹس اور ٹیکساس کے سینیٹر ٹیڈ کروز بھی ریپبلکن پارٹی کے ممکنہ امیدواروں میں شامل ہیں۔





