Roze News

بچہ ان پڑھ نہ رہ جائے اس لیے یتیم خانے داخل کرایا تھا، مقتول وسیم کے نانا کا بیان

بچہ ان پڑھ نہ رہ جائے اس لیے یتیم خانے داخل کرایا تھا، مقتول وسیم کے نانا کا بیان

تازہ خبروں اور اہم اپڈیٹس کیلئے ہمارا وٹس ایپ چینل جوائن کریں۔

جب وسیم کا والد فوت ہوا اور اس کی والدہ نے دوسری شادی کی، جس کے بعد بچے کو یتیم خانے چھوڑ کر آیا تھا تاکہ پڑھ جائے، 15 سالہ مزدور وسیم عباس کے بزرگ نانا کی گفتگو

وسیم کے والد کے انتقال اور والدہ کی دوسری شادی کے بعد اسے یتیم خانے چھوڑ آیا تھا تاکہ وہ پڑھ لکھ سکے، مقتول مزدور کے بزرگ نانا کی گفتگو نے سب کی آنکھیں نم کر دیں

ملتان میں اجرت کے تنازع پر ٹھیکیدار کی جانب سے گاڑی کے نیچے کچل کر قتل کیے جانے والے 15 سالہ وسیم عباس کے نانا غلام شبیر کا جذباتی اور دردناک بیان سامنے آ گیا، جس میں انہوں نے اپنے نواسے کے لیے انصاف کا مطالبہ کیا ہے۔

مقتول وسیم عباس کے نانا غلام شبیر نے اپنے ایک ویڈیو بیان بتایا کہ وسیم کا والد انتقال کر چکا تھا اور اس کی والدہ نے دوسری شادی کرلی تھی، جس کے بعد بچوں کی دیکھ بھال اور تعلیم و تربیت کی خاطر وسیم کو ملتان کے یتیم خانے میں داخل کرایا گیا تھا۔

انہوں نے بتایا کہ میں نے وسیم کو اس ڈر سے ملتان کے یتیم خانے میں داخل کرایا تھا کہ بچے ان پڑھ نہ رہ جائیں اور کچھ پڑھ لکھ جائیں، لیکن ظالم گاڑی والوں نے اس کے اوپر گاڑی چڑھا کر اسے مار دیا، بس ہمیں اس ظلم پر صرف اور صرف انصاف چاہیے، اس بے گناہ بچے کے لیے انصاف ملنا چاہیے۔

وسیم کے نانا کا کہنا تھا کہ وسیم اپنی محنت و مشقت سے روزی کمانے کی کوشش کر رہا تھا لیکن ظالم ملزمان نے اس کی معصومیت اور مجبوری کا ذرا بھی خیال نہ کیا اور محض چند روپوں کی اجرت مانگنے پر اس کی زندگی کا چراغ گل کر دیا، مقتول کے لواحقین اور یتیم خانے کے انتظامیہ نے اعلیٰ حکام سے فوری اور منصفانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔

ملتان میں 15 سالہ مزدور وسیم عباس کے بہیمانہ قتل کے معاملے میں اہم پیشرفت سامنے آئی ہے، جہاں عدالت میں پیشی کے دوران گرفتار مرکزی ملزم کو غصے میں موجود وکلاء کی جانب سے تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔

تفصیلات کے مطابق پولیس 15 سالہ وسیم عباس کے قتل میں ملوث گرفتار مرکزی ملزم کو سماعت کے سلسلے میں کچہری لے کر پہنچی تھی، جہاں عدالتی احاطے میں موجود وکلاء نے مشتعل ہو کر ملزم پر دھاوا بول دیا اور اسے تشدد کا نشانہ بنایا، واقعے کے بعد پولیس نے بڑی مشکل سے ملزم کو وکلاء کے نرغے سے بچایا اور سکیورٹی حصار میں عدالت منتقل کیا، بعد ازاں عدالت کی جانب سے ملزم کے 4 روزہ جسمانی ریمانڈ کی منظوری دے دی گئی۔

بتایا جارہا ہے کہ اس افسوسناک واقعے میں پولیس خود مدعی بنی ہے، جس کے بعد اب صلح صفائی کا کوئی بھی امکان باقی نہیں رہا اور یہ مؤقف اپنایا گیا ہے کہ ملزم کو قانون کے مطابق اس کے انجام تک پہنچایا جانا چاہیے، پولیس کا کہنا ہے کہ واقعے میں ملوث ایک مرکزی ملزم کو پہلے ہی گرفتار کیا جا چکا ہے جبکہ اس کا دوسرا شریک ملزم تاحال فرار ہے، جس کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جا رہے ہیں۔