گورنرراج میں ان لوگوں کو مسلط کیا گیا جن کو عوام الیکشن میں مسترد کرچکی ہے، گورنر راج دہشتگردی کچلنے کے لیے نہیں، پی ٹی آئی سے عوامی مینڈیٹ چھیننے کیلئے تھا، رہنماء پی ٹی آئی کا ردعمل
رہنماء پی ٹی آئی مینا خان آفریدی کا کہنا ہے کہ خیبرپختونخوا میں منتخب حکومت کو دہشتگردی کا بہانہ بنا کر غیرجمہوری گورنرراج لگایا گیا، گورنر راج میں ان لوگوں کو مسلط کیا گیا جن کو عوام الیکشن میں مسترد کرچکی ہے۔ ایکس پر اپنے بیان میں مینا آفریدی نے الزام عائد کیا کہ خیبرپختونخوا میں منتخب حکومت کو دہشتگردی کا بہانہ بنا کر غیر جمہوری گورنر راج لگا کر ایسے لوگوں کو مسلط کیا گیا جن کو عوام الیکشن میں واضح طور پر مسترد کر چکی ہے- مقصد صرف پاکستان تحریک انصاف کی حکومت،نمائندوں اور ورکز کو نشانہ بنانا تھا- تحریک انصاف کے ورکرز کو اغواء کرنا، انکے گھروں پر چھاپے مارنا، انکے گھر توڑنا ہی تمہارا کام رہ گیا ہے۔
دہشتگردی تو آج بھی خیبرپختونخواہ میں جاری ہے لیکن غیر جمہوری گورنر راج کی طرف سے دہشتگردی سے متعلق کیا اقدامات اٹھائے گئے۔ کسی کو کوئی علم نہیں، ترجیحات ان کی صرف تحریک انصاف کو دبانااور اپنے مفادات کے تحفظ ہے۔
سوال یہ ہے کہ خیبرپختونخوا میں یہ غیر جمہوری عمل کیوں کیا گیا ۔ایک صوبے کا منتخب وزیراعلی سہیل آفریدی،اسمبلی اسپیکر بابر سلیم سواتی اور صوبائی صدر جنید اکبر خان کے ساتھ کئی منتخب وزرا، ایم۔این ایز،ایم پی ایز اور پارٹی کے ورکرز کو مسلسل جبری اغوا کیا جارہا ہے ۔





