11 اکتوبر کے اقدامات جو کل میں خود پشاور ہائیکورٹ میں چیلنج کروں گا، آپ خیبرپختونخواہ میں حکومت ختم کرسکتے ہیں لیکن نئی قوم نہیں بسا سکتے، چیئرمین پی ٹی آئی کی گفتگو
چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر خان کا کہنا ہے کہ ہمارا لانگ مارچ اور احتجاج جاری ہے، گورنرراج اور ایمرجنسی کو ہرگز تسلیم نہیں کریں گے، 11 اکتوبر کے اقدامات جو کل میں خود پشاور ہائیکورٹ میں چیلنج کروں گا۔ چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر خان نے اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی کے ہمراہ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہمارا لانگ مارچ جاری ہے۔
احتجاج جاری ہے۔ ہم گورنر راج اور ایمرجنسی کو ہرگز تسلیم نہیں کریں گے۔ میں مطالبہ کرتا ہوں ہم نے اس کے خلاف اپنا احتجاج جاری رکھا ہوا ہے اور یہ آئندہ بھی جاری رہے گا۔ انہوں نے کہا کہ 11 تاریخ کو جو اقدامات کیے گئے ہیں، انشاءاللہ کل میں خود انہیں پشاور ہائی کورٹ میں چیلنج کروں گا۔ اور ہماری پارٹی بھی ان اقدامات کو چیلنج کر رہی ہے۔
خیبر پختونخوا کے نوجوانوں سے میری اپیل ہے کہ جن اضلاع میں ایمرجنسی نافذ نہیں ہے اور جہاں گورنر راج جیسے ڈرامے یا دیگر آفات مسلط نہیں کی گئیں، وہاں وہ اپنی جمہوری جدوجہد اور تحریک کو جاری رکھیں۔ دفعہ 144 کی کوئی پرواہ نہ کریں، کیا اب وہ ہمارے بچوں کو ماریں گے؟ چار کروڑ انسانوں کے حقِ رائے دہی کا مذاق اڑایا گیا ہے۔ یہ ان چار کروڑ عوام کی توہین ہے جنہوں نے الیکشن جیتا تھا۔
جبکہ سندھ، بلوچستان اور پنجاب میں الیکشن چوری کرنے والے آج مزے سے حکومتیں کر رہے ہیں اور پاکستان کو ایک دودھ دینے والی گائے کی طرح دوہا جا رہا ہے۔ تحریک تحفظ آئینِ پاکستان اس معاملے پر کسی سے کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گی، ہمیں پاکستان عزیز ہے۔
چیئرمین تحریک تحفظ آئین پاکستان محمود خان اچکزئی کا کہنا ہے کہ ہم سول سوسائٹی اور تمام لوگوں سے اپیل کرتے ہیں کہ یہ بہت بڑا حملہ ہے۔ ہم سب، جس کو پاکستان عزیز ہے، جس کو جمہوریت عزیز ہے، ہم سب کی ذمہ داری بنتی ہے کہ اس بلا کے خلاف اکٹھے ہوں۔

Leave feedback about this